غزہ میں موسلا دھار بارشوں سے تباہی، بچوں سمیت 14 فلسطینی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں شدید موسمی صورتحال نے انسانی المیے کی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں سمندری طوفان بائرن کے زیرِ اثر ہونے والی طوفانی بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم چودہ فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ ہزاروں خاندان ایک بار پھر بے بسی اور کسمپرسی کی تصویر بن گئے ہیں۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں پہلے ہی خستہ حال اور جنگوں سے متاثرہ عمارتیں موسلا دھار بارش کا دباؤ برداشت نہ کر سکیں، جس کے باعث متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے، ان حادثات میں بارہ افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے جب کہ دو کم سن بچیاں شدید سردی اور نامساعد موسمی حالات کے باعث زندگی کی بازی ہار گئیں۔
رپورٹس کے مطابق مسلسل بارشوں اور سیلابی کیفیت نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور اب تک آٹھ لاکھ سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہو چکے ہیں، محدود وسائل اور امدادی سامان کی کمی کے باعث متاثرہ علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شہری ملبے سے لاشیں اور زخمی نکالنے، عارضی پناہ گاہیں قائم کرنے اور ایک دوسرے کو سہارا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم شدید سردی، بارش اور بنیادی سہولیات کی عدم دستی نے مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اگلے ماہ بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا مقصد حماس کے خلاف کارروائی نہیں ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور نظم و نسق کی بحالی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آئندہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں فورس کے قیام، دائرہ کار اور ذمہ داریوں پر غور کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔