مریم نواز کی امریکی سرمایہ کاروں کو شاندار مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امریکی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں شاندار مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دے دی۔
مریم نواز سے امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرس نے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری، تجارت، ثقافت اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات میں بہتری خوش آئند ہے، وزیراعظم کا حالیہ دورۂ امریکا باہمی تعلقات میں مزید استحکام کا باعث ہوگا، پاکستان اور امریکا کے موجودہ تعلقات افق کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
مریم نواز نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے حکومتِ پنجاب کے تاریخی پیکج پر کام شروع ہو چکا ہے، پنجاب میں کلچرل ٹورازم کے فروغ کے لیے قدیمی ثقافتی ورثے کی بحالی اور بہتری کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ حکومتِ پنجاب سرحد پار سے آنے والی اسموگ کے اثرات کو کم از کم سطح پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔
امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرس نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کا ای بزنس پروجیکٹ قابلِ تحسین ہے، ای بزنس پروجیکٹ کے باعث سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
امریکی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پنجاب میں جس طرح اور جس رفتار سے کام ہو رہا ہے، وہ قابلِ محسوس اور متاثرکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔