جی میل صارفین کے لیے انتباہ: 18 کروڑ سے زائد پاس ورڈز ہیکرز کے ہاتھ لگ گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
دنیا بھر کے جی میل صارفین کو ایک بڑے سائبر حملے کے بعد خبردار کیا گیا ہے جس میں تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ ای میل اکاؤنٹس اور ان کے پاس ورڈز لیک ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جی میل صارفین خبردار، گوگل کا ڈھائی ارب اکاؤنٹس کو عالمی سائبر حملے پر الرٹ جاری
رپورٹس کے مطابق یہ ڈیٹا لیک اپریل میں پیش آیا تھا، تاہم حال ہی میں سائبر سیکیورٹی ویب سائٹ ہیَو آئی بین پاؤنڈ نے اس کی نشاندہی کی۔ ویب سائٹ کے بانی ٹرائے ہنٹ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات مختلف ویب سائٹس سے جمع ہونے والے ایک بڑے ہیک کا حصہ ہیں۔
لیک ہونے والا ڈیٹا صرف جی میل اکاؤنٹس تک محدود نہیں بلکہ ان تمام لاگ اِنز کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو جی میل پر مبنی ہیں۔ اس سے ہیکرز کو صارفین کے دوسرے آن لائن اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا جی میل پاس ورڈ تبدیل کریں اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز رسائی کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جی میل میں اب لمبی ای میلز پڑھنا نہایت آسان، مگر کیسے؟
گوگل کے مطابق ٹو اسٹیپ ویری فکیشن اکاؤنٹس کے تحفظ میں اضافی دیوار کا کام کرتی ہے اور اس سے چوری شدہ پاس ورڈ کے باوجود ہیکرز کو داخل ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہیَو آئی بین پاؤنڈ ویب سائٹ اب تک 917 ویب سائٹس اور 15 ارب سے زائد متاثرہ اکاؤنٹس کا سراغ لگا چکی ہے۔ صارفین اپنی ای میل درج کر کے جانچ سکتے ہیں کہ آیا ان کا اکاؤنٹ بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہے یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
gmail we news پاسپورڈ جی میل سائبر کرائم ہیکرز وارننگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاسپورڈ جی میل ہیکرز وارننگ جی میل
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔