جاپانی شخص نے 55 سال پرانی تصویر سوئس خاتون تک پہنچا دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ایک دلچسپ اور دل کو چھو لینے والی کہانی میں، 77 سالہ جاپانی شخص ٹاٹشیکو یاماموٹو 55 سال بعد اس 81 سالہ سوئس خاتون مارلیس سے دوبارہ جڑنے میں کامیاب ہوئے، جس سے وہ صرف ایک بار ملے تھے۔
یہ ملاقات 1970 کی اوساکا ایکسپو میں ہوئی تھی، جب 22 سالہ ٹاٹشیکو اور 26 سالہ مارلیس، جو اس وقت سوئس پویلین کے عملے کا حصہ تھیں، ایک دوسرے سے ملے۔ مارلیس نے ٹاٹشیکو سے کہا کہ وہ اکٹھے تصویر لیں، جو اس وقت کے مشہور پویلین “ٹری آف لائٹ” کے سامنے کھینچی گئی۔
ٹاٹشیکو نے وعدہ کیا کہ اگلے دن وہ تصویر کی کاپی مارلیس کو دیں گے، لیکن جب وہ واپس پہنچے تو مارلیس چھٹی پر تھیں اور پھر دونوں کا رابطہ ختم ہو گیا۔ باوجود اس کے، ٹاٹشیکو نے اس واقعے کو کبھی بھولا نہیں، اور مارلیس کا نام بھی یاد رکھیں۔
وقت گزرا، ٹاٹشیکو نے شادی کی اور اپنے تین بچوں کے ساتھ کیوٹو میں رہائش اختیار کی، جبکہ مارلیس سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں مقیم ہو گئیں۔
2025 میں اوساکا میں ورلڈ ایکسپو دوبارہ منعقد ہوا تو ٹاٹشیکو نے فیصلہ کیا کہ وہ سوئس پویلین جا کر اپنی پرانی دوست کو تلاش کریں۔ حیران کن طور پر، انہیں مارلیس کو تلاش کرنے میں کامیابی ملی، اگرچہ وہ خود وہاں موجود نہیں تھیں۔
ٹاٹشیکو کی مدد سوئس پویلین کے ایک کیفے چلانے والے فلپ موئسمین نے کی، جو مارلیس کے قریبی دوستوں کا بیٹا ہیں۔ فلپ نے بتایا کہ ان کے والدین 1970 میں سوئس پویلین میں کام کرتے تھے اور مارلیس کے دوست بن گئے تھے۔ دراصل مارلیس نے فلپ کے والدین کی شادی میں بھی شرکت کی تھی۔
فلپ نے ٹاٹشیکو کو مارلیس کے بارے میں بتایا کہ وہ زیورخ میں صحت مند زندگی گزار رہی ہیں، اور انہیں 2025 کے ایکسپو میں سوئس پویلین آنے کی دعوت دی۔
ٹاٹشیکو نے اپنی پرانی 55 سال پرانی تصویر کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے بہتر بنایا اور ایک خوبصورت البم کے طور پر مارلیس کو تحفے میں بھیج دیا۔ فلپ نے اس البم کو مارلیس تک پہنچانے میں مدد کی۔ جواب میں مارلیس نے 1970 کے جاپان کے دورے کی تصاویر ٹاٹشیکو کو بھیجیں۔
اب دونوں دوبارہ رابطے میں ہیں اور اپنی پرانی دوستی کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔ وہ ای میل کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں اور زبان کی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے AI ٹرانسلیشن ٹولز استعمال کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اوساکا ایکسپو 2025، 13 اپریل سے 13 اکتوبر تک جاری رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوئس پویلین
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔