سرکاری پروازوں کے ذریعے 14ہزار 670 عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ چکے
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
حج آپریشن 2025 کامیابی سے جاری ہے، سرکاری حج پروازوں کے ذریعے 14 ہزار 670 عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ چکے ہیں۔
ترجمان مذہبی امور کے مطابق 98 فیصد سرکاری عازمین کرام کے حج ویزے جاری ہوچکے ہیں، بعض نیم خواندہ اور دور دراز علاقوں کے عازمین حج کو بائیو میٹرک کے مسائل درپیش آئے، درست بائیو میٹرک نہ کرنے کے سبب ڈیڑھ فیصد زیر التوا ویزوں کے اجرا پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حج آپریشن: کوئٹہ سے 2 پروازیں 300 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ پہنچ گئیں
ترجمان کا کہنا ہے کہ نصف فیصد اغلاط والے ویزوں کا دوبارہ اجرا جلد مکمل ہوجائے گا، وزارت کا حج آئی سیل ایسے عازمین کی معاونت کے لیے مسلسل رابطے میں ہے، ویزہ یا نجی وجوہات کی باعث رہ جانے والے عازمین کو اگلی پروازوں میں بھیجا جارہا ہے۔
وزارت کے حاجی کیمپ ہفتے کے 7 دن عازمین حج کی سہولت کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
پاکستانی عازمین حج کی مدینہ منورہ میں آمد کا سلسلہ جاری ہے، اب تک 60 حج پروازوں کے ذریعے 14 ہزار 670 عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں، کل 11 پروازوں کے ذریعے مزید 2500 عازمین کرام مدینہ منورہ پہنچیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حج آپریشن کا آغاز، پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی
ترجمان مذہبی امور کہا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی نسک ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ میں نوافل کی ادائیگی جاری ہے، پاکستانی عازمین حج نے نسک پلیٹ فارم کے ذریعے آسانی سے زیارت مکمل کرنے پر انتظامات کی تعریف کی ہے، پاکستان حج مشن نے مسجد نبوی کے اطراف میں رہائشیں حاصل کی ہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستانی عازمین حج کی 13 کیٹرنگ کمپنیوں کے ذریعے پاکستانی ذائقے اور معیار کے مطابق تواضع کی جارہی ہے، مدینہ منورہ پہنچنے والے اولین عازمین حج کے قافلے 7 مئی کو مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے، عازمین حج مکہ پہنچ کر پہلا فرض عمرہ ادا کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان حج آپریشن سعودی عرب مدینہ منورہ مکہ مکرمہ وزارت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان مکہ مکرمہ مدینہ منورہ پہنچ پروازوں کے ذریعے جاری ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔