ایل او سی پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ایل او سی پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب WhatsAppFacebookTwitter 0 5 May, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس) بھارت نے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا گیا۔
بھارت نے لائن آف کنٹرول پر متعدد مقامات پر پاکستانی پوسٹوں پر بِلا اشتعال فائرنگ کی جبکہ پاکستان کی فوج نے بھارتی فوج کی طرف سے کی گئی اس بلا اشتعال خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر نکیال، کھوئی رٹہ، شاردا، کیل، نیلم اور حاجی پیر سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ کی۔
سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج نے مذکورہ سیکٹرز میں دشمن کی بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا اور کہا کہ پاک فوج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار اور پر عزم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعالمی اور ملکی میڈیا کا ایل او سی کا دورہ، وزیر اطلاعات نے زمینی حقائق پیش کر دیے عالمی اور ملکی میڈیا کا ایل او سی کا دورہ، وزیر اطلاعات نے زمینی حقائق پیش کر دیے اجلاس بلانے کیلئے سیکیورٹی کونسل کی صدارت کو اطلاع دے دی ہے، عاصم افتخار حج آپریشن، 98فیصد سرکاری عازمین کرام کو ویزے جاری قومی اتحاد کو عمران خان کی شرکت سے مشروط کرنا پی ٹی آئی کی کوتاہ اندیشی ہے، خواجہ آصف پی ٹی آئی کا حکومتی بریفنگ میں شرکت سے انکار پر عظمی بخاری شدید ردعمل وزیراطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی سیاسی رہنماں کو اہم بریفنگ کا آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلا اشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب ایل او سی پاک فوج
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز