ہم اپنے حصے کا ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑیں گے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم الرٹ ہیں، بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے، ہم اپنے حصے کا ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑیں گے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں علاقائی مکالمہ 2025 کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ منسوخ نہیں کر سکتا، بھارت کا یکطرفہ معاہدہ منسوخ کرنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلگام واقعے میں بالکل ملوث نہیں، بھارت نے بغیر کیس ثبوت کے بے بنیاد الزامات لگائے۔
پہلگام واقعہ اور بھارتی اقدامات کیخلاف ہم متحد، فوج کیساتھ کھڑے ہیں: بیرسٹر گوہر
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کی گئی مہم کو لمحوں میں ناکام بنا دیا،بھارتی فضائیہ کو اسی کی زبان میں جواب دیا، بھارتی طیاروں نے ایک بار پھر کوشش کی نہیں انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا، ہم الرٹ ہیں، بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے، ہم اپنے حصے کا ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔