تحریک تحفظ آئین کا موجودہ حکومت کے خاتمے ‘ آزاد الیکشن کمیشن کے تحت نئے انتخابات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 05 مئی ۔2025 )اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے 16 نکاتی قومی ایجنڈے میں موجودہ حکومت کے خاتمے سمیت نئے الیکشن اور آئینی ڈھانچے کی تفصیلات شامل ہیں جبکہ اپوزیشن نے 2024ءکے انتخابات کو مکمل مسترد کرتے ہوئے آزاد الیکشن کمیشن کے تحت نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے.
(جاری ہے)
ایجنڈے میں کہا گیا کہ اپوزیشن پرامن احتجاج اور سیاست کی اجازت کا مطالبہ کرتی ہے، اپوزیشن موجودہ حکمرانوں کی قانون سازی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتی ہے. 16نکاتی ایجنڈے میں معاشی مشکلات میں اپوزیشن نے حکومتی اخراجات میں کمی، ٹیکس سے متعلق کاروبار اور مڈل کلاس کو متاثر کرنے والی پالیساں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے جانے اور ججز کو ہراساں کرنے کو بند کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا. ایجنڈے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کو سنجیدہ لیتے ہوئے ٹرانسفر اور پوسٹنگ واپس لی جائے، پانی کی تقسیم میں برابری کے اصول کو مدِنظر رکھا جائے، اپوزیشن سندھ اور چولستان میں نہریں بنانے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتی ہے ایجنڈے کے مطابق ایس آئی ایف سی کے فیصلے صوبائی خود مختاری پر کاری ضرب ہیں، اپوزیشن صوبائی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے، جبری گمشدگی کو ختم کیا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے تمام سیاسی قیدیوں بشمول سابق وزیراعظم عمران خان کو رہا کیا جائے اور کیس ختم کیے جائیں. 16 نکاتی ایجنڈے میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی پورے ملک میں بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، ملک کی 60 فیصد نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے طلبہ یونین کو بحال کیا جائے، آرٹیکل 140 اے کے تحت لوکل گورنمنٹ کے نظام کو بحال کیا جائے ایجنڈے میں کہا گیا کہ فلسطین میں قتل عام بند کروانے میں کردار ادا کیا جائے، افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، ماضی کی غلطیوں کے خمیازے کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسلییشن کمیشن بنایا جائے اور پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایجنڈے میں کا مطالبہ کیا جائے کرتی ہے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔