صدر ایف پی سی سی آئی کا شرح سود میں 5 فیصد تک کمی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )کے صدر عاطف اکرام شیخ نے شرح سود میں فوری طور پر 5 فیصد تک کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے خدشات کے برعکس مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ یہ مستحکم ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے کا جواز کمزور پڑ چکا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے مطالبہ کیا کہ جون تک پالیسی ریٹ میں بتدریج کمی کر کے اسے 7 فیصد کی سطح پر لایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دوہرے ہندسے کی شرح نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس نے نجی شعبے کیلئے قرضوں تک رسائی کو مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 12 فیصد کی بلند شرح سود ملکی صنعت و تجارت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں اور مہنگائی میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیسے کی سرکولیشن میں اضافے سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔