وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے المناک دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر ایرانی وزیر خارجہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے لیے دعا کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، گہرے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ صدر پیزشکیان کے ساتھ اپنی متعدد ملاقاتوں اور حالیہ ٹیلی فون کال کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان ایران دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، توانائی، سرحدی انتظام اور علاقائی رابطوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے پہلگام واقعے کے بعد سے ہندوستان کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کی شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو واقعے سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے پیشکش کی ہے کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں پاکستان نے انتہائی ذمہ داری سے کام لیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازعہ سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے جو کہ جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اور اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ پانی پاکستانی عوام کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
وزیر خارجہ عراقچی نے ایرانی قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے اور جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے صدر پیزشکیان کی طرف سے وزیراعظم کو اس سال کے دوران ایران کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا اظہار کیا شہباز شریف ایران کے انہوں نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎