سٹی42: جمعیتِ علماِ اسلام کے امیر، کہنہ مشق سیاستدان فضل الرحمان انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے عروج کے دنوں مین قوم ییکجہتی کو فروغ دینے کے لئے قوم یاسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔

مولانا نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنے واک آؤٹ کی وجہ یہ بتائی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس مین تھوڑے لوگ شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے قومی یک جہتی کو بڑھانے کے لئے حکومتی  کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہ ہونے پر تنقید کی۔  مولانا نے اس سے پہلے قوم یاسمبلی کے اجلاس میں نکتہِ اعتراض پر بولتے ہوئے  بتایا کہ قوم یاسمبلی کے اجلاس میں انہیں سنجیدگی نطر نہیں آ رہی۔
 مولانا نے حکومت مین نقص نکالتے ہوئے کہا،  سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومتی بنچوں پر نشستیں خالی ہیں۔  حکومت کو چاہیے تھا کہ ایوان کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

مولانا نے دعویٰ کیا کہ میں بڑے جوش سے پارلیمنٹ آیا تھا، ایسے حالات ہیں اور ایوان میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ یہ کہتے ہوئے مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کے اجلاس سے  واپس چلے گئے۔ میڈیا کی بعض آؤٹ لیتس نے مولانا کے قوم یاسمبلی سے واپس جانے کے غیر سنجیدہ اقدام کو "واک آؤٹ" قرار دیا۔ اس  نام نہاد واک آؤٹ کی رپورٹس کئی آؤٹ لیٹس پر پبلش ہونے کے بعد مولانا کی طرف سے اس کی کوئی وضاحت نہیں آئی کہ کیا یہ واقعی کوئی واک آؤٹ تھا۔ اگر یہ واک آؤٹ تھا تو مولانا جیسے گرگِ باراں دیدہ پارلیمنٹیرین کو حکومت لی کسی بات پر کسی اعتراض کے بگیر واک آؤٹ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے رسمی باتیں دہرائیں اور کہا، بھارتی جارحیت پاکستان کی سلامتی کے لیے مسئلہ ہے، قوم پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کرتی ہے۔ آج اسمبلی میں توقع تھی کہ قرارداد آئےگی، موجودہ صورتحال پربحث ہوگی۔  نہ وزیراعظم نہ وزیرخارجہ نہ کوئی اہم وزیر ایوان میں موجود تھا، اسمبلی میں ہم بانسری کس کے سامنے بجائیں۔بھارت نے حملہ کردیا تو داخلی صورتحال کی کیا سٹریٹجی ہے، ہم پارلیمنٹ میں کارروائی کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے باہر آگئے۔

سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اسمبلی کے اجلاس قوم یاسمبلی قومی اسمبلی فضل الرحمان مولانا نے واک ا ؤٹ

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن