خیبرپختونخوا مائنز اینڈ منرلز بل پر  پی ٹی آئی کمیٹی نے سوالات اٹھا دیے  ہیں، اور اس بل کو 6 ماہ تک موخر کرنے کی سفارش کی ہے۔ ایسے میں یہ سوال زبان زدعام ہے کہ کیا اس معاملے پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور تنہا رہ گئے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی پارلیمانی کمیٹی نے مجوزہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 پر سوالات اٹھا کر بل کو فوری طور پر اسمبلی میں نہ لانے اور 6 ماہ تک موخر کرکے اس میں شامل خامیوں اور غیر آئینی شقوں کو نکالنے کی سفارش کر دی ہے۔

3 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پارٹی کے مرکزی چیئرمین اور جنرل سیکریٹری کو پیش کر دی، جس کی کمیٹی نے تصدیق کی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے پارٹی کے اندر بے چینی اور اختلافات کے باعث بنائی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی علی اظہر اس کے سربراہ تھے، جبکہ پشاور سے رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی اور سوات سے ایم این اے ڈاکٹر امجد علی خان اس کے ممبر تھے۔

رائے سازی اور مشاورت کی سفارش

کمیٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی علی اظہر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ چیئرمین اور جنرل سیکریٹری کو پیش کی ہے۔ علی اظہر نے بتایا کہ کمیٹی ممبران نے مجوزہ ایکٹ کو غور سے پڑھا اور اس کی بعض شقوں پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ بل میں شامل خامیوں کو دور کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ رپورٹ پر عمل درآمد قیادت کا کام ہے۔

رپورٹ کے بارے میں پارٹی کے ایک دوسرے سینئر رہنما نے بتایا کہ رپورٹ میں وہ سب کچھ شامل ہے جس کا اظہار پی ٹی آئی کے اراکین کر رہے تھے اور جس کی بنیاد پر وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پارٹی کو ضرور مشورہ دیا ہے کہ بل کو جلد بازی میں پاس نہ کیا جائے اور اس پر مشاورت کی جائے۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ بل کی بعض شقیں صوبائی خود مختاری کے خلاف ہیں اور وفاق اور بعض اداروں کو مداخلت کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ کم از کم 6 ماہ تک اس کو اسمبلی میں نہ لایا جائے اور اس دوران اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور عوامی رائے سازی پر کام ہونا چاہیے۔

صوبائی وسائل پر قبضہ

3 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے بل کو پڑھ کر پایا کہ مائنز اینڈ منرلز بل معدنی وسائل پر وفاق کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے اور  اس کا مقصد عوام کو ان کے وسائل سے محروم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے رپورٹ میں ’مائنز انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن اتھارٹی‘ کے قیام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بل صوبائی حکومت کے اختیارات کو کم کرتا ہے، یہ اختیارات غیر منتخب افراد کو دیدیے جائیں گے۔ رپورٹ میں شق 64(1) پر زیادہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس میں نجی معاہدوں کو عوامی قانون پر فوقیت دی گئی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ شق معدنی معاہدوں میں شفافیت، احتساب اور نگرانی کو ختم کرتی ہے۔

‘مجوزہ بل معدنی وسائل پر کنٹرول ہے’

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مجوزہ ایکٹ کا مقصد صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس سے چھوٹے اور مقامی کان کن اس میں حصہ نہیں لے سکیں گے جبکہ بااثر اور سیاسی افراد کو فائدہ ہوگا۔

کمیٹی نے رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ’مائنز اینڈ منرلز فورس‘ بنانے کی کیا ضرورت ہے، جو عدالتی نگرانی کے بغیر چھاپے مارنے اور گرفتاریاں کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ فورس مستقبل میں اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ اس بل میں رائلٹی کی ادائیگی، پیداوار کی نگرانی، یا آمدنی کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی واضح طریقہ موجود نہیں ہے۔ چھوٹے اضلاع اور مقامی کان کنوں کے لیے بھی کوئی فنڈ قائم نہیں کیا گیا۔

بل پر کیا علی امین گنڈاپور مشکل میں پھنس گئے؟

پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے مجوزہ ایکٹ پر اعتراضات اور سوالات سے بھرپور رپورٹ کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور مشکل میں پھنس گئے ہیں، جو ہر حال میں بل پاس کروانا چاہتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق علی امین نے کابینہ میٹنگ میں کسی کو بل پر بات کرنے نہیں دی تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ بل اسمبلی سے پاس ہو جائے۔ تاہم، شکیل خان نے اسمبلی کے فلور پر مخالفت کر کے مشکلات پیدا کر دیں۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے اور بل پر ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک بل پر عمران خان کو تفصیلی بریفنگ نہیں دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور مائنز اینڈ منرلز بل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور مائنز اینڈ منرلز بل مائنز اینڈ منرلز علی امین گنڈاپور پارلیمانی کمیٹی نے بتایا کہ مجوزہ ایکٹ رپورٹ میں پی ٹی آئی انہوں نے کمیٹی نے اور اس

پڑھیں:

ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی

سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔

انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن