مولانا فضل الرحمان کا حکومت کی غیر سنجیدگی پر اپنے ساتھیوں سمیت ایوان سے واک آوٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)جمعیت علمائے اسلام ف کے سر براہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی غیر سنجیدگی پر ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی ارکان کو منانے کی ذمہ داری ڈاکٹر طارق فضل کودے دی۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان اپنے ساتھیوں سمیت ایوان سے واک آوٹ کرگئے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایوان میں بات نہیں کرنا چاہتا۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ یہ تو وقت تھا کہ پورا ایوان آج بھرا ہوتا، حکومت کی طرف سے بھرپور جواب دیا جاتا، پوری فرنٹ لائن خالی ہے، کس کو بات سنائیں۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، بھارت اپنی جارحیت کے ذریعے مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، پاک افواج پر نہ صرف پوری قوم بلکہ پوری دنیا اعتبارکرتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پوری قوم یک جان ہے، پوری کابینہ غائب تھی، کوئی سننے والا نہیں، جس وجہ سے اپنی جماعت سمیت بائیکاٹ کیا۔مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی غیر سنجیدگی کی نشاندہی پر مزید کہا کہ حکومت تو آ کر صورتحال کے حوالے سے اعتماد میں لیتی۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ جہاں کوئی اہم حکومتی شخصیت موجود نہیں، ایسے ایوان میں نہیں بیٹھ سکتا۔
انھں نے کہا کہ فوج کبھی اکیلے نہیں لڑ سکتی، پوری قوم اس کی پشت پرموجود ہے، جنگیں قومی وحدت کے ساتھ لڑی جاتی ہیں، جنگ لڑنے کیلئے ایک موثر سیاسی قیادت اس کی پشت پر ہونا چاہیے، بدقسمتی سے وہ قیادت اس وقت ملک میں موجود نہیں ہے۔ادھر ڈپٹی اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی ارکان کو منانے کی ذمہ داری ڈاکٹر طارق فضل کودیدی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرارسا ایڈوائزری کمیٹی کا بھارت کی جانب سے چناب میں پانی کی اچانک کمی پر اظہار تشویش ارسا ایڈوائزری کمیٹی کا بھارت کی جانب سے چناب میں پانی کی اچانک کمی پر اظہار تشویش وزیر اعظم سے بلاول بھٹو کی ملاقات، ملکی صورتحال، بجٹ تجاویز پر بات چیت خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا ٹوئٹر ایکس اکاونٹ بھارت نے بلاک کردیا ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ ، صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اسرائیلی کابینہ نے غزہ پر قبضہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دیدی تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں اور پاکستان کو بچائیں، محمود خان اچکزئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: حکومت کی غیر سنجیدگی مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کہا کہ

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا