بھارت کسی بھی وقت ایل او سی کے قریب حملہ کر سکتا ہے، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے، تاہم پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’بھارت کو ان شاء اللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق خواجہ آصف نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان کے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ بھارت ایل او سی کے اطراف کسی مقام پر حملے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو بھارتی انتخابات کے تناظر میں محض ایک سیاسی چال ہو سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی 6اوربشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت20مئی تک ملتوی
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی اس مطالبے کا اظہار کر چکے ہیں کہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے لیے بین الاقوامی کمیشن بنایا جائے۔ ’تحقیقات سے واضح ہو جائے گا کہ بھارت خود اس واقعے میں ملوث ہے یا کوئی اندرونی گروپ، اور پاکستان پر لگائے گئے الزامات میں کس حد تک صداقت ہے۔‘
انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ مودی جھوٹ بول رہا ہے یا سچ۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو دنیا کو کہنا چاہیے کہ مودی تم جھوٹ بولتے ہو اور برصغیر کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہو۔ تم نے ایٹمی جنگ کے دہانے پر پورے خطے کو پہنچا دیا ہے۔‘
مستونگ؛نامعلوم کی گاڑی پر فائرنگ ،خاتون سمیت 3افراد جاں بحق
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مودی یہ تمام ڈرامے صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان کے اندرونی علاقوں میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ ’بھارت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے۔ 2016 اور 2017 میں ہم نے اقوام متحدہ میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے تھے جن میں ویڈیوز شامل تھیں۔ ان میں دکھایا گیا تھا کہ بھارت کس طرح پیسوں کے بدلے دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا ہے۔‘
وزیر دفاع نے افغانستان سے دراندازی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے، وہ افغانستان کی سرزمین سے ہو رہا ہے۔ بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا، دہشت گردی افغانستان سے کی جا رہی ہے، اور اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔‘
شناختی کارڈ بنوانے کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیر دفاع کہ بھارت کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔