قطری ہم منصب سے ملاقات، ہمیشہ جارحیت کی پالیسی کو مسترد کیا: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) فاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی قطر کی وزارت داخلہ آمد، وزیرداخلہ محسن نقوی کی قطر کے وزیر داخلہ خلفیہ بن حماد بن خلفیہ الثانی سے اہم ملاقات۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے علاقائی صورتحال پر قطر کے وزیر داخلہ کو بریف کرتے ہوئے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اپنے قطری ہم منصب کو پاکستان کے اصولی موقف سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جارحیت کی پالیسی کو مسترد کیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان پر بے بنیاد اور غیر منطقی الزام لگانا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ منشیات کی روک تھام کیلئے قطر کے ساتھ باہمی رابطے مزید مستحکم کریں گے۔ ملاقات میں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے لیے ٹریننگ کے ایکسچینج پروگرام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ قطر کے وزیر مملکت داخلہ شیخ عبدالعزیز بن فیصل بن محمد الثانی۔ قطر میں پاکستان کے سفیر محمد عامر اور قطری وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔