کُرم واقعات میں ملوث تقریباً 125 افراد کو حراست میں لیا ہے، آئی جی کے پی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
انسپیکٹر جنرل پولیس صوبہ خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید—فائل فوٹو
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ کُرم واقعات میں ملوث تقریباً 125 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان جرائم اور دہشت گردی میں ملوث تھے۔
ذوالفقار حمید نے بتایا کہ حالیہ دہشتگردی کے متعدد واقعات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک گروہ ملوث ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مراسلہ ارسال کردیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ علماء کرام کے واقعات سے متعلق کچھ افراد کے موبائل نمبرز کا پتہ چل گیا ہے اور ان لوگوں تک پہنچ چکے ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا پولیس نے کہا کہ کرم واقعات میں ملوث تقریباً 125 افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذوالفقار حمید خیبر پختونخوا واقعات میں میں ملوث
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔