رچرڈ گرینل کا ایک بار پھر عمران خان کے حق میں بیان، پی ٹی آئی کو اب بھی امید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاکستانی نژاد امریکن ڈیموکریٹ ڈاکٹر آصف محمود کی بانی پاکستان تحریک انصاف اورسابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سے ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات میں رچرڈ گرینل نے ایک بار پھر عمران خان کے حق میں بات کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی عمران خان سے محبت کرتے ہیں اور ان کا سابق وزیراعظم سے خاص تعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رچرڈ گرینل نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے پاکستانی کو کیوں ڈانٹ دیا؟
ڈاکٹر آصف محمود نے ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہوئے رچرڈ گرینل کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ آپ نے آج مقامی، قومی، اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وقت نکالا۔ دنیا بھر میں موجودہ جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ان کے امریکہ پر اثرات کے حوالے سے آپ کی بصیرت اور فہم واقعی نہایت قیمتی ہے۔۔
Thank you, Ambassador @Richardgrenell, for taking the time to discuss local, national, and global issues today.
I especially appreciate your… pic.twitter.com/nOrTht3BsD
— Dr. Asif Mahmood (@DrMahmood40) May 6, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کرنے اور ہمارے دوست وزیراعظم عمران خان اور دیگر ناجائز طور پر گرفتار کیے گئے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی وکالت کرنے کے آپ کے عزم کو سراہتا ہوں۔ پاکستان کے لیے جمہوری اور متحرک مستقبل کو فروغ دینے کی آپ کی کوششیں واقعی قابلِ ستائش اور باعثِ حوصلہ ہیں۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پی ٹی آئی کے حامی صارفین کو ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئی اور وہ ان سے درخواست کرتے نظرآئے کہ برائے مہربانی عمران خان کو جیل سے رہا کرایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: رچرڈ گرینل نے پرانی ٹوئٹس ڈیلیٹ کردیں ’انہیں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے گمراہ کیا گیا‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل ہی عمران خان کی رہائی کے لیے مہم شروع کردی۔
رچرڈ گرینل نے سوشل میڈیا کے ذریعے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا، جس پر پاکستان میں خوب تبصرے ہوئے، جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کہاکہ اب حکومت کے گھبرانے کا وقت ہوگیا ہے۔
رچرڈ گرینل ایک امریکی سفارت کار رہے ہیں اور انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب سمجھا جاتا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں نیشنل انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر بھی رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی رچرڈ گرینل عمران خان عمران خان رہائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی عمران خان رہائی عمران خان کی رہائی ڈونلڈ ٹرمپ کے پی ٹی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔