پرچی صرف پاکستان تک چلتی ہے انکی، علیزے شاہ کا شوبز انڈسٹری پر طنز
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ اور ماڈل علیزے شاہ نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنے بےباک انداز سے دیئے گئے بیان کی وجہ سے صارفین کی توجہ سمیٹ لی ہے۔
حال ہی میں انہوں نے انسٹاگرام سے اپنی تمام پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کے بعد ایک تنقیدی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر کام حاصل کرنے کے رجحان کا انکشاف کیا۔
علیزے نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ انہوں نے کبھی غیر اخلاقی طریقے سے کام نہیں لیا، اور ان کے مطابق صرف پاکستان میں ہی ایسے لوگوں کے لیے جگہ ہے جو "پرچی" کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/DJRM1V1tZFW/
ان کا کہنا تھا کہ جو افراد بند دروازوں کے پیچھے خفیہ معاملات طے کرتے ہیں، وہ خود کو پیشہ ور کہتے ہیں، جب کہ جو اس نظام کا حصہ نہ بنے، انہیں بدتمیز قرار دیا جاتا ہے۔
اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین ان کی صاف گوئی کی تعریف کر رہے ہیں، جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ علیزے شاہ محض تنازعات کے ذریعے خبروں میں رہنے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ اب انہیں کام نہیں مل رہا۔
یاد رہے کہ اب سے کچھ دن قبل علیزے شاہ نے سوشل میڈیا سے دوری کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کے نئے بیانات سامنے آنے پر صارفین انکی سوشل میڈیا پرواپسی پر بھی طنز کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا علیزے شاہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ