کھانا گھر پہنچانے کا عمل انتہائی آسان ہوگیا ہے، بہت سے لوگ کھانا پارسل کروا کر گھر لے جاتے ہیں اور اسے کھا کر فریج میں رکھ دیتے ہیں، تاہم انہیں اپنا بچا ہوا کھانا فریج میں رکھنے خاص طور پر چاولوں سے متعلق کھانوں کے حوالے سے دوبارہ گرم کرنے میں محتاط رہنا چاہیے۔

ایک رپورٹ کے مطابق حیران کن طور پر، پکے ہوئے چاول ایک بیکٹیریا، باسیلس سیریس (Bacillus cereus) کا گڑھ بن سکتا ہے جو زہریلے ٹاکسن پیدا کرتا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اسسٹنٹ ایملی ہووس نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا ابتدائی کوکنگ کے عمل کے دوران جرثومے کی شکل میں زندہ رہتا ہے اور اگر چاول کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑ دیے جائیں، تو یہ ٹاکسن پیدا کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ چاول دوبارہ گرم کرتے ہیں تو آپ صرف بیکٹیریا کی سبزیاتی خلیوں کو مار رہے ہوتے ہیں، لیکن ٹاکسن کو ختم نہیں کرتے۔

ماہرین کے مطابق چولہے پر یا مائیکروویو میں جب چاول یا کوئی بھی بچا ہوا کھانا دوبارہ گرم کیا جائے تو کھانے کا اندرونی درجہ حرارت کم از کم 165 ڈگری تک پہنچنا چاہیے۔ آپ فوڈ تھرمامیٹر استعمال کرکے چیک کر سکتے ہیں۔

ری ہیٹنگ (دوبارہ گرم کرنے کا عمل) کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اگرچہ یہ لذیذ لگتا ہے کہ کل کا ویڈکا پاستا مائیکروویو میں پلاسٹک کے کنٹینر میں دوبارہ گرم کیا جائے، تاہم ماہرین ایسا کرنے سے خبردار کرتے ہیں۔

ویلز اینڈ گوڈ کے مطابق ان کنٹینرز میں ایسے مواد ہو سکتے ہیں جو کیمیکلز جیسے مائیکروپلاسٹکس، فتالٹس یا بی پی اے کو کھانے میں شامل کر سکتے ہیں۔

شانیہ نائٹن، جو کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی انفیکشن پریکٹیشنر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، نے اس آؤٹ لیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا، “جب یہ پلاسٹک گرم ہوتے ہیں، تو یہ ٹوٹ کر آپ کے کھانے میں نقصان دہ کیمیکلز چھوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، “جتنا زیادہ آپ کا کھانا گرم، چکنائی والا یا تیزابیت والا ہو تو اتنا ہی زیادہ امکان ہوتا ہے کہ یہ کیمیکلز آپ کے کھانے میں شامل ہو جائیں۔

امریکہ میں 32 فیصد افراد اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بچا ہوا کھانا نظر سے ہٹ جانے کے بعد بھول جاتے ہیں، اس لیے کوشش کریں کہ اپنی بچی ہوئی پیزا کو فریج میں تین یا چار دن سے زیادہ نہ رکھیں، کیونکہ کھانا وہاں بھی خراب ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سکتے ہیں

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان