سعودی عرب کویت اور اردن میں شدید گرد و غبار کا طوفان، حد نگاہ صفر، سیلابی صورتحال خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ریاض(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 06 مئی ۔2025 )سعودی عرب، کویت اور اردن شدید گرد و غبار کے طوفان کی لپیٹ میں آگئے، حد نگاہ صفر ہوگئی، سفری نظام مفلوج، سیلابی صورتحال کا خدشہ پیداہوگیا غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریاض ،کویت ،عمان، خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت اور اردن شدید گرد و غبار کے طوفان کی زد میں آگئے جس کے نتیجے میں حد نگاہ صفر ہوگئی سفری نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور بعض علاقوں میں بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے.
(جاری ہے)
سعودی عرب کے وسطی علاقے صوبہ القصیم میں شہریوں نے غیر معمولی منظر کا مشاہدہ کیا جسے ماہرین نے گرد و غبار کی دیوار قرار دیا ہے یہ دیوار جیسے ہی علاقے سے گزری آسمان نارنجی رنگ میں بدل گیا اور حدِ نگاہ صفر ہوگئی جس کی وجہ سے ٹریفک اور پروازوں کی روانی شدید متاثر ہوئی. سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرد و غبار کا طوفان ایک اونچی، لہر جیسی دیوار کی شکل میں آگے بڑھتا ہے جو سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دیتا ہے یہ منظر نہ صرف خوفناک تھا بلکہ شہریوں کو گھروں میں محدود کر دینے والا بھی تھا. ماہرِ موسمیات عبداللہ المسند جو قصیم یونیورسٹی کے سابق استاد ہیں کے مطابق گرد وغبار کی طوفانی دیواریں 2,000 میٹر (تقریبا 6,500 فٹ) کی بلندی تک پہنچ سکتی ہیں اور ان کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے. دوسری جانب سعودی محکمہ موسمیات نے ریاض ریجن کے رہائشیوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض شہر کے علاوہ الدرعیہ، الخرج ، الزلفی اور وادی الدواسر میں آج بھی مطلع گرد آلود ہے جس کے باعث حد نگاہ متاثر ہوگی اس سے ملتی جلتی کیفیت مشرقی ریجن کے شہروں دمام، الخبر اور الاحسا میں بھی ہے جہاں ہوا کی رفتار 49 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے. قصیم ریجن بریدہ، عنیزہ اور الرس میں بھی گرد وغبار رہے گا جو شام 5 تک ہوگا اور حد نگاہ کو متاثر کرے گا محکمہ موسمیات نے عسیر اورجازان کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابہا، خمیس مشیط، النماص، العارضہ، فیفا، الریث اور دیگر شہروں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوگی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نگاہ صفر حد نگاہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔