صنم جاوید کے شوہر عتیق ریاض جیل سے رہا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی متحرک کارکن صنم جاوید کے شوہر پروفیسر عتیق ریاض کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ انہیں ایف آئی اے نے ایک ہفتہ قبل پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔ عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد عتیق ریاض کی رہائی عمل میں آئی۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق عتیق ریاض کو عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو کے مبینہ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر جعلی مواد کی ترسیل اور پھیلاؤ میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم، عدالت سے ضمانت حاصل ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید اور ان کے شوہر کو پولیس نے ایک ہفتہ قبل کوٹ لکھپت جیل کے قریب سے حراست میں لیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے دونوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے عتیق ریاض کو تحویل میں لے لیا۔
صنم جاوید اس وقت 9 مئی کے احتجاجی کیسز کے سلسلے میں عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں 8 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کا جسمانی ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
تھانہ اسلام پورہ میں درج مقدمہ نمبر 486 کے تحت صنم جاوید، عالیہ حمزہ، نازیہ بلوچ، انتظار حسین پنجوتہ اور دیگر 35 نامعلوم افراد پر ریاست مخالف نعرے بازی اور اشتعال انگیز تقاریر کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صنم جاوید سے مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمے میں پیش رفت کی جا رہی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صنم جاوید عتیق ریاض
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔