بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کے 7 جوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کے 7 جوان شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
کوئٹہ(سب نیوز )بلوچستان میں کالعدم تنظیم نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بزدلانہ حملے میں سیکیورٹی فورسز کے 7 جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 6 مئی کو بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں بھارتی ایما پر کام کرنے والی کالعدم تنظیم نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں وطن کے 7 سپوت شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا میں صوبیدار عمر فاروق، نائیک آصف خان، نائیک مشکور، علی سپاہی طارق نواز، سپاہی واجد احمد فیض، سپاہی محمد عاصم، سپاہی محمد کاشف خان شامل ہیں۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ترجمان پاک فوج نے بیان میں کہا کہ اس گھناونے اور بزدلانہ حملے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پوری قوم، بلوچستان میں امن، ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اور اس کے ایجنٹوں کے مذموم عزائم ان شا اللہ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز، ریاستی اداروں اور عوام کی جرات اور یکجہتی کے سامنے ناکام ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 2بہنوں نورین خانم اور ڈاکٹر عظمی کو اجازت مل گئی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 2بہنوں نورین خانم اور ڈاکٹر عظمی کو اجازت مل گئی بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کے بزدلانہ حملے میں پاک فوج کے 7جوان شہید وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اہم ترین اجلاس کل طلب کرلیا ملک بھر کی تاجر قیادت نے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کو پارلیمنٹ کی توہین اور جمہوریت کا مذاق قرار دیکر مسترد کر دیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سندھ، کے پی، بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں پر کارروائی کا مطالبہ کر دیا سی ڈی اے افسران اور ملازمین کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کی سکروٹنی کیلئے کمیٹی تشکیل ، 8رکنی کمیٹی7دن میں سینیارٹی اور سکروٹنی کر کے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں کالعدم سیکیورٹی فورسز بی ایل اے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔