کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے قابل امریکی ڈالر گراوٹ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
انٹربینک مارکیٹ کے اثرات اوپن کرنسی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جہاں ڈالر کی قدر یکدم 22 پیسے کے اضافے سے 283 روپے 12 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ شرح سود میں 1 فیصد کی کمی کے بعد ملکی درآمدات مزید بڑھنے اور بیرونی قرضوں کے ادائیگیوں کے دباو کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں منگل کو بھی روپے کی نسبت امریکی ڈالر تگڑا رہا، جس سے ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ 283 روپے سے بھی تجاوز کر گئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر کی قدر ایک موقع پر 2 پیسے کی کمی سے 281 روپے 20 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی، لیکن ایکسٹرنل انفلوز کی بیرونی ادائیگیوں میں استعمال ہونے اور مقامی تجارت صنعت اور زرعی پیداواری سرگرمیاں بڑھنے سے طلب کے مطابق زرمبادلہ کی رسد نہ ہونے سے ڈالر نے یوٹرن لیا اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 15 پیسے کے اضافے سے 281 روپے 37 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اسٹیٹ بینک نے رواں سال کے اختتام تک پاکستان کو آئی ایم ایف سے قسط، کلائمیٹ فنانسنگ سمیت دیگر ایکسٹرنل انفلوز کی پیشگوئی کی ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں روپیہ تگڑا ہونے کے امکانات ہیں۔ انٹربینک مارکیٹ کے اثرات اوپن کرنسی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے، جہاں ڈالر کی قدر یکدم 22 پیسے کے اضافے سے 283 روپے 12 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیسے کی سطح پر ڈالر کی قدر
پڑھیں:
مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے مبینہ طور پر گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران تقریباً 12 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کا سونا فروخت کئے جانے کی خبروں پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شبیہ کو بچانے کے لئے ملک کے سونے کے ذخائر فروخت کر رہی ہے۔ کانگریس صدر نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کر کہا کہ مودی حکومت سے روپیہ سنبھالا نہیں جا رہا ہے اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 100 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
اسی خدشے کے باعث حکومت اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مودی کو اپنی شبیہ کی فکر ستا رہی ہے، اسی لئے آر بی آئی سے کہہ کر ملک کا سونا فروخت کروایا جا رہا ہے تاکہ روپیہ 100 روپے فی ڈالر کی حد عبور نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2 ہفتوں کے اندر آر بی آئی نے تقریباً 12 بلین ڈالر مالیت کا سونا فروخت کر دیا ہے، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپے کے برابر بنتا ہے۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعظم کی "فرضی شبیہ" کو بچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے کیونکہ ملک کی عوام حقیقت سے واقف ہو چکی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی تنقید کو مزید تیز کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ گرتا ہوا روپیہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ہندوستان سے سرمایہ نکالنا، صنعتوں اور کمپنیوں کا بند ہونا اور روزگار کے مواقع میں کمی ایسے حقائق ہیں جو معیشت کی کمزور ہوتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسائل محض شروعات ہیں اور آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ کھڑگے نے اپنے بیان کے اختتام پر مودی حکومت پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ مودی ہے تو ملک برباد ہے۔