امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملہ شرمناک ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ معاملات زیادہ خراب نہ ہوں۔

امریکی صدر نے تقریب میں صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں ابھی بھارتی حملے کی اطلاع ملی ہے اور وہ اسے شرمناک سمجھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دہائیوں سے خراب ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ معاملات جلد ٹھیک ہوجائیں۔

واضح رہے کہ امریکا مسلسل اس بات پر زور دے رہا تھا کہ دونوں ممالک مسائل کا بات چیت کے ذریعے حل نکالیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی ہم منصب جے شنکر کو ٹیلیفون کرکے کہا کہ دونوں ملک کشیدگی کا ذمہ دارانہ حل نکالیں، تاکہ جنوب ایشیا میں طویل المدتی امن اور علاقائی استحکام برقرار رہے۔

یہ بھی پڑھیں پاک بھارت جنگ کی صورت میں امریکا  پاکستان کا ساتھ دے گا، 17فیصد پاکستانیوں کی توقع

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس کا پریس بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے مختلف سطح پر رابطے میں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا کوئی حل نکلے، اور اس کے لیے ہم مسلسل رابطے میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا دہشتگردی کے خلاف بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ کہہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

بھارت نے یکطرفہ طور پر پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ہمارا پانی بند کیا تو جنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں پہلگام حملے کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن تشکیل دیا جائے، پاکستان کی پیشکش

پاکستان نے بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے الزام پر کہا ہے کہ کوئی بھی دو سے تین ملک پہلگام واقعہ کی تحقیقات کریں، یا اقوام متحدہ کا ایک کمیشن تشکیل دیا جائے، پاکستان مکمل تعاون کرےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کہ دونوں تھا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام