حوثیوں نے مزید حملے نہ کرنیکا وعدہ دیا ہے اور امریکہ بھی اب یمن پر حملہ نہیں کریگا، ٹرمپ کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
وائٹ ہاؤس میں کینیڈا کے نئے وزیر اعظم کیساتھ ملاقات کے دوران انتہاء پسند امریکی صدر نے دعوی کیا ہے کہ یمن نے صیہونی بحری جہازوں پر مزید حملے نہ کرنیکا وعدہ دیا ہے جس پر اعتماد کرتے ہوئے امریکہ بھی اب یمن پر بمباری نہیں کریگا! اسلام ٹائمز۔ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے خلاف امریکی حملوں کی بندش کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مَیں مشرق وسطی کے اپنے دورے سے قبل "اہم خبروں" کا اعلان کروں گا! ایرانی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا (IRNA) کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں کینیڈا کے نئے وزیر اعظم مارک کارنی (Mark Carney) کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی جنگ نہیں چاہتے اور یہ کہ یمن کے خلاف جاری امریکی بمباری بھی بند ہو جائے گی!! ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انصار اللہ یمن نے امریکی انتظامیہ کو بتایا ہے کہ وہ اب مزید "لڑنا" نہیں چاہتے اور بحیرہ احمر میں جہازرانی کے راستوں پر حملہ کرنا بند کر دیں گے!
امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید لڑنا نہیں چاہتے.
ادھر یمنی مزاحمتی محاذ کی جانب اس خبر پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری "بالواسطہ مذاکرات" کے بارے عالمی میڈیا پر بارہا "براہ راست مذاکرات" کا دعوی کرنے اور اکثر و بیشتر متضاد بیانات دینے والے انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے؛ غیور یمنی عوام کی نسبت بے سر و پا دعوے بعید نہیں!
-
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دعوی کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نہیں چاہتے نے دعوی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔