Express News:
2026-06-03@00:59:59 GMT

امن کے لیے مکالمہ ضروری

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

پاکستان نے پہلگام واقعہ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اعتماد میں لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بند کمرہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان نے کشیدگی کو کم کرنے، فوجی محاذ آرائی، تنازعات سے بچنے اور مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ دریاؤں کا بہاؤ روکنا یا اس کا رخ موڑنا دراصل جنگ کے مترادف ہوگا۔

 پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی برادری کو ایک بار پھر اس حقیقت کا ادراک کرایا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کا قیام محض دو ہمسایہ ممالک کی خواہش پر منحصر نہیں بلکہ اس کے لیے عالمی اداروں کی فعال مداخلت اور مؤثر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ عالمی برادری اس خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہے، اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے پیش کردہ شواہد اور مؤقف نے ایک نئی سفارتی جہت اختیار کی ہے۔

پاکستان نے اس اجلاس میں بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے ٹھوس ثبوت پیش کیے ہیں، جن میں لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ، آبی جارحیت کے اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کی پے در پے اشتعال انگیزیاں خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ کے ہولناک اثرات سے کوئی نہیں بچے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش ظاہر کی ہے اور خطے میں استحکام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔

 جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے پانی کی منصفانہ تقسیم ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس خطے میں واقع ممالک نہ صرف کثیر آبادی پر مشتمل ہیں بلکہ ان کی معیشتوں کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، اور زراعت کا انحصار پانی پر۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تنازعات میں پانی ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاید سب سے کم آواز کے ساتھ مگر سب سے زیادہ اثر کے ساتھ موجود ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت پاکستان کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی آبی مسئلہ اس خطے میں پیدا ہوگیا تھا۔ بھارت نے 1948 میں مشرقی دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ اس عمل نے پاکستان کی زراعت، معیشت اور شہری زندگی کو سخت متاثر کیا۔ اس بحران کے بعد عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں ایک معاہدہ طے پایا جسے معاہدہ سندھ طاس کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریاؤں کی تقسیم عمل میں آئی جس میں راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دیے گئے جب کہ سندھ، چناب اور جہلم پاکستان کے لیے مخصوص کیے گئے۔

اس معاہدے کو اس وقت دنیا کا سب سے کامیاب آبی معاہدہ قرار دیا گیا کیونکہ اس نے دو متحارب ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے کو ایک فریم ورک میں ڈھالا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بھارت نے اس معاہدے کی اصل روح کو پس پشت ڈال کر ایسے اقدامات کرنے شروع کیے جو بظاہر قانونی دائرے میں آتے ہیں لیکن حقیقت میں پاکستان کے پانی کے حقوق پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔ بھارت نے مغربی دریاؤں پر یکے بعد دیگرے کئی ڈیمز بنائے جن میں بگلیہار، کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس نمایاں ہیں۔

ان ڈیمز کے ذریعے بھارت پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو گیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو پاکستان کے لیے نہایت تشویش ناک ہے۔ ان منصوبوں سے پاکستان کو خدشہ ہے کہ بھارت خشک سالی کے موسم میں پانی روک سکتا ہے اور سیلاب کے دنوں میں غیر متوقع طور پر پانی چھوڑ کر تباہی پھیلا سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی کا بہاؤ روکنے یا کم کرنے سے پاکستان کی زرعی پیداوار شدید متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر چناب اور جہلم جیسے دریا، جو پاکستان کے زرخیز علاقوں کو سیراب کرتے ہیں، جب ان کے پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے تو لاکھوں کسانوں کا روزگار، ملکی غذائی تحفظ اور برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔

آبی جارحیت کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں۔ جب دریا خشک ہونے لگتے ہیں تو ماحولیاتی نظام بگڑنے لگتا ہے۔ آبی حیات، جیسے مچھلیاں، گھونگھے اور دوسرے جاندار ختم ہونے لگتے ہیں، اور زمین کی نمی کم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل رفتہ رفتہ زمین کو بنجر بناتا ہے اور ریگستانی علاقوں میں اضافہ کرتا ہے۔ سندھ کے ساحلی اضلاع جیسے ٹھٹھہ اور بدین اس عمل کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہاں سمندر کا کھارا پانی زمین کے اندرونی حصوں میں داخل ہو چکا ہے جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین ناقابلِ کاشت ہو چکی ہے۔

بھارت کی حکمت عملی بہت محتاط اور منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔ وہ اس معاہدے کی تکنیکی باریکیوں کا فائدہ اٹھا کر ایسے ڈیمز بناتا ہے جنھیں ’’ رن آف دی ریور‘‘ کے زمرے میں لایا جاتا ہے، یعنی وہ بظاہر پانی ذخیرہ نہیں کرتے، بلکہ فوری بجلی پیدا کرتے ہیں۔ مگر اصل مقصد پانی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تاکہ پاکستان کو اس کے حق سے محروم رکھا جا سکے۔ یہ عمل درحقیقت ایک خاموش جنگ کے مترادف ہے، جو بغیر بندوق یا بارود کے لڑی جا رہی ہے لیکن اس کے اثرات کسی جنگ سے کم نہیں۔

پاکستان نے ان بھارتی منصوبوں کے خلاف کئی بار عالمی بینک اور بین الاقوامی ثالثی عدالتوں سے رجوع کیا ہے۔ کشن گنگا ڈیم کے خلاف پاکستان کو ایک حد تک کامیابی ملی تھی، لیکن بھارت نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے بجائے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ڈیم کی تکمیل جاری رکھی۔ عالمی بینک جو اس معاہدے کا ضامن ہے، وہ بھی ان مسائل پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کر سکا۔ پاکستان کا یہ موقف بجا ہے کہ اگر ایسے تنازعات بروقت نہ روکے گئے تو وہ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

دنیا کے کئی خطے اس وقت پانی کی کمی کے شدید بحران کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ کے ادارے یہ پیش گوئی کر چکے ہیں کہ اگلی عالمی جنگ پانی پر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں جنوبی ایشیا جہاں پہلے ہی ایٹمی اسلحہ موجود ہے، اگر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو نتائج کسی قیامت سے کم نہ ہوں گے۔ عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور آبی تحفظ کے ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے کی روح کے مطابق رویہ اپنائے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے۔ بھارت کی آبی جارحیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر اس خطرے کو وقت پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔پانی کے مسئلے پر سنجیدگی، تدبر، اور بین الاقوامی سطح پر حکمت عملی اپنانے کا وقت آ گیا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے؟ کیا ہمیشہ جنگی ماحول اور دشمنی کی فضا میں رہ کر ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل دے سکتے ہیں؟ جواب واضح ہے: نہیں۔ آج کا دور مکالمے، تعاون اور سمجھوتے کا ہے۔

دنیا کے وہ ممالک جوکل تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، آج تجارت، تعلیم اور ترقی کے میدان میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ اگر یورپ، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے سلجھا سکتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کیوں نہیں؟یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسائل کا حل محض جنگ یا الزام تراشی سے ممکن نہیں۔ کشمیر جیسے حساس مسئلے سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین ایک میز پر بیٹھیں، ایک دوسرے کا مؤقف سنیں اور سنجیدگی کے ساتھ حل تلاش کریں۔ امن کے راستے پر پہلا قدم ہمیشہ ’’مکالمہ‘‘ ہوتا ہے۔

اس وقت دونوں ملکوں کو داخلی مسائل، غربت، بیروزگاری، اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے، جو بدقسمتی سے دفاعی اخراجات اور اسلحے کی دوڑ میں صرف ہو رہے ہیں۔ اگر یہی وسائل تعلیم، صحت اور عوامی فلاح پر لگائے جائیں تو نہ صرف خطے میں خوشحالی آئے گی بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔پاک بھارت کشیدگی کا خاتمہ صرف بندوق سے نہیں، بلکہ بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ امن ایک خواب نہیں، ایک ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے لیے سلامتی کونسل اقوام متحدہ ا بی جارحیت پاکستان نے اس معاہدے اور بھارت کے درمیان معاہدے کی بھارت کی بھارت نے ضرورت ہے متحدہ کی کرنے کے کے ساتھ پانی کی کو ایک ہے اور

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی