حکومت اربعین کے لئے ایران اور عراق جانے والے زائرین کی سہولت کے لئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2025ء)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کو یقین دلایا ہے کہ حکومت اربعین کے لئے ایران اور عراق جانے والے زائرین کی سہولت کے لئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے، ایران اور عراق کے ہوائی اڈوں سے زائرین کے مطلوبہ مقامات تک آمدورفت کے لئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زائرین کی حفاظت اور سہولت اولین ترجیح ہے اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پورے سفر میں مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے سنگین سیکورٹی خدشات بالخصوص زائرین کے قافلوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد حملوں کے خطرے کے پیش نظر کوئٹہ سے 800 کلومیٹر کے راستے پر زمینی سفر پر پابندی لگا دی ہے، ان خطرات کو کم کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کو کوئٹہ سے براہ راست پروازیں چلانے کا اختیار دیا جس سے زائرین اپنی منزلوں تک ہوائی جہاز کے ذریعے محفوظ سفر کر سکیں گے۔(جاری ہے)
وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ ایسی ایک پرواز پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے اور حکومت ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مزید روزانہ دو پروازیں یا کم از کم ایک باقاعدہ سروس کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے ہوائی اڈوں سے زائرین کے مطلوبہ مقامات تک آمدورفت کے لئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے چار دنوں میں اشتہارات شائع کئے گئے تھے جس میں نجی ہوائی کمپنیوں کو روٹ پر کام کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور تمام لائسنس یافتہ نجی ایئر لائنز کو خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، زائرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو محفوظ طریقے سے سفر کرنے کے لئے چارٹرڈ پروازوں کی بھی منظوری دی گئی تھی۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد سڑک پر سفر کے حفاظتی خطرات سے بچتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے آپریٹرز پر زور دیا کہ وہ دی گئی اجازت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران بھی اس معاملے پر بات ہوئی تھی اور ایران نے پاکستانی زائرین کی نقل و حرکت میں سہولت کے لئے اضافی پرواز کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان اور پاکستان بھر کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت تمام اربعین زائرین کے لئے محفوظ، آرام دہ اور بروقت آمدورفت کو یقینی بنانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق زائرین کے زائرین کی کے لئے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ