اپنے ایک بیان میں کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمیں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے بھارت کی پاکستان پر جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی طاقتوں کے واضح انتباہات کے باوجود بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، بھارت نے بلاوجہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کیا ہے۔ اس سے پہلے بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعے کو بہانہ بنا کر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر گذشتہ ماہ سے ظلم و ستم میں اضافہ کر رکھا ہے اور اب بھارت پاکستان اور آزاد کشمیر پر بلاوجہ حملہ آور ہوا ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ گذشتہ دنوں سے مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے کئی بے گناہ لوگوں کو جبراً بے دخل کر کے آزاد کشمیر کی سرحد پر چھوڑ رہا ہے، جو ایک انتہائی مذموم اقدام ہے، ان افراد میں بعض ایسی عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں جو پچاس پچاس سال پہلے شادی کر کے مقبوضہ کشمیر گئی تھیں۔ عالمی برادری کو فوری طور پر بھارت کی پاکستان پر جارحیت اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کو روکنا ہو گا، کیونکہ بھارت پر جنگی جنون سوار ہے، وہ خطے کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے کہا کہ ہم دنیا بھر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت کی مذمت کریں اور اسے اس کی جارحانہ کارروائیوں سے باز رکھیں۔ علی رضا سید نے کہا کہ اصل مسئلہ خطہ کشمیر کا ہے جو ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اس قبضے کو مستقل کرنا چاہتا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عالمی برادری علی رضا سید کشمیر کے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا