مسلح افواج کو بھارت کیخلاف جوابی کارروائی کا مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، قومی سلامتی کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اعلامیے کے مطابق ان بلاجواز اور غیر ضروری حملوں میں دانستہ طور پر شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں من گھڑت دہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر نشانہ بنایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بزدل دشمن بھارت کو رات کی تاریکی حملے کا ردعمل اور سخت جواب دینے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد بدھ کو جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت، پاکستان اپنے بے گناہ شہریوں کی شہادت اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کے بدلے، وقت، مقام اور انداز کے تعین کے ساتھ، اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں مسلح افواج کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت دو گھنٹے تک جاری رہنے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی رات انڈیا کی مسلح افواج نے پاکستان کی خودمختار حدود میں مختلف مقامات پر مربوط میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کا نشانہ پنجاب کے شہروں سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے اور بہاولپور کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے علاقے کوٹلی اور مظفرآباد بنے۔
اعلامیے کے مطابق ان بلاجواز اور غیر ضروری حملوں میں دانستہ طور پر شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں من گھڑت دہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بے گناہ مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے، جبکہ مساجد سمیت شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا، انڈیا کی جارحیت نے برادر خلیجی ممالک کی مسافر پروازوں کو بھی شدید خطرے سے دوچار کیا، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نشانہ بنایا گیا
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔