انڈین ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی، پاکستان کا فضائی حملوں پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ناظم الاُمور کو طلب کر کے فضائی حملوں پر بھرپور احتجاج کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت بہت سے شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دفترِ خارجہ کا کہنا کہ انڈین ناظم الاُمور کو بتایا گیا کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس طرح کے حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ضمن میں روایات کی بھی خلاف ورزی ہیں۔’انڈیا کو خبردار کیا گیا کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ روّیہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف مقامات پرفضائی حملے کیے جن میں پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق 26 شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔