انڈین حملے میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاکستان فوج کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا نے گذشتہ رات کے حملے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو نشانہ بنایا اور اس دوران نوسیری ڈیم کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان کے آبی ذخائر کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور انڈیا کی اس ’آبی دہشت گردی‘ کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا جنگی قوانین اور بین الاقوامی قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ کسی ملک کے آبی ذخائر اور ڈیمز کو نشانہ بنایا جائے؟پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’ہائیڈرو سٹرکچرز اور آبی ذخائر کو نقصان پہنچانا ایک ناقابل قبول اور خطرناک حملہ ہے۔ کیا انڈیا پاکستان کے آبی ذخائر کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور کیا وہ جانتا ہے کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے اور اس کا کیا مطلب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔