مسلح افواج نے ہندوستان کے مکروہ حملے کا منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات دشمن نے پاکستان پر حملے کی ناپاک جسارت کی، جس کا مسلح افواج نے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر افواج نے دشمن کے حملے کو ناکام بنا کر اندھیری رات کو چاندنی رات میں بدل دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی حملے میں بچوں سمیت کئی معصوم پاکستانی شہید ہوئے، جن کے لیے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ انہوں نے 22 اپریل کو پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے محض 10 منٹ کے اندر ایف آئی آر درج کر کے پاکستان پر الزام عائد کر دیا، جو اس کے بدنیتی پر مبنی عزائم کا واضح ثبوت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے حملے کے فوراً بعد بغیر کسی تحقیق کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ قبل بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ کے واقعے کے شواہد بھی بھارت سے جا ملتے ہیں، اور ہمارے پاس اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اگر جارحیت مسلط کی گئی تو ہر محاذ پر دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ مسلح افواج مکمل طور پر چوکس اور تیار ہیں، اور دشمن کی ہر سازش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے طیارے تباہ ہونے کی خبر ویب سائٹ سے ہٹادی، ٹوئٹ بھی ڈیلیٹ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔