واہگہ بارڈر سے متعلق سکیورٹی الرٹ کی ایڈوائزری جعلی قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
واہگہ بارڈر اور ملحقہ علاقوں سے متعلق سکیورٹی الرٹ پر مبنی ایک ایڈوائزری کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے دفتر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واہگہ بارڈر یا آس پاس کے علاقوں میں کسی قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایڈوائزری جعلی ہے، شہری افواہوں پر یقین نہ کریں۔‘ مزید کہا گیا کہ شہریوں کی حفاظت ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت آگاہی فراہم کی جائے گی۔مبینہ جعلی ایڈوائزری، جس پر ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ کے دستخط دکھائے گئے، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واہگہ بارڈر کے قریب ایک سکیورٹی واقعہ پیش آیا ہے جس میں متعدد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق مسلح افواج نے برکی، بیدیاں اور بی آر بی کینال کے راستوں پر کنٹرول سنبھال لیا ہے اور شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایت کی گئی ہے۔مبینہ جعلی ایڈوائزری، جس پر ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ کے دستخط دکھائے گئے، اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ واہگہ بارڈر کے قریب ایک سکیورٹی واقعہ پیش آیا ہے جس میں متعدد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق مسلح افواج نے برکی، بیدیاں اور بی آر بی کینال کے راستوں پر کنٹرول سنبھال لیا ہے اور شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایت کی گئی ہے۔جعلی ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ڈی ایچ اے فیز 8، عسکری 11، پیراگون سٹی اور گرین سٹی کے مکین اپنے ہمراہ اصل شناختی کارڈز، ضروری ادویات اور طبی سامان رکھ کر فوری طور پر علاقہ خالی کریں۔ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: واہگہ بارڈر ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
کراچی:ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران ایک مسافر کمیل عباس کو مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفصیلی جانچ کے دوران مسافر کے پاسپورٹ پر مشتبہ جعلی مہریں پائی گئیں۔ مشتبہ مہروں کی تصدیق انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS) کے ذریعے کی گئی، تاہم متعلقہ آمد و روانگی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے پر مہروں کے جعلی ہونے کا شبہ مزید مضبوط ہو گیا۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے بیان دیا کہ اس نے اپنا پاسپورٹ اپنے دوست نعیم کے حوالے کیا تھا، جو اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی شخص نے پاسپورٹ پر جعلی پاکستانی امیگریشن مہریں لگوائیں۔ مسافر نے مذکورہ شخص کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کر دیے ہیں۔
مسافر کو پرواز سے آف لوڈ کر کے مقدمہ مزید قانونی کارروائی، جامع تحقیقات اور جعلی امیگریشن مہروں کے استعمال میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کے لیے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔