بھارتی صحافی برکھا دت کا پاکستانی پائلٹ سے متعلق جھوٹا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارتی صحافی برکھا دت نے ایک بار پھر بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ کیا ہے کہ ایک پاکستانی پائلٹ بھارت کی حراست میں ہے۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس خبر کو مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹ اور بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔
برکھا دت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئیٹر) پر لکھا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے جموں، پٹھان کوٹ، ادھم پور، سرینگر، آر ایس پورہ اور جیسلمیر پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں، اور ان کارروائیوں کے دوران ایک پاکستانی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کوئی ایسا فضائی حملہ یا آپریشن سرے سے کیا ہی نہیں گیا جس میں جنگی طیارے یا پائلٹس استعمال کیے گئے ہوں۔
مزید پڑھیں: پاکستان حملہ کرے گا تو دنیا دیکھے گی اور گونج بھی سنائی دے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اور بعض صحافی من گھڑت دعوؤں کے ذریعے جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کرنے اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک حالات میں سنجیدہ صحافت کا تقاضا ہے کہ حقائق کی مکمل جانچ کے بعد خبر دی جائے۔
Breaking @themojostory – a Pakistani pilot is in Indian custody – more details awaited / this as india thwarts multiple missile and drone attacks by Pakistan on Jammu, Pathankot, Udhampur, srinagar, RS Pura, Jaisalmer – all attempts foiled –
— barkha dutt (@BDUTT) May 8, 2025
میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برکھا دت جیسی تجربہ کار صحافی سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو بغیر کسی تحقیق کے پھیلائیں۔ ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ کا خدشہ منڈلا رہا ہو، اس قسم کی خبریں آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
واضح رہے کہ فروری 2019 میں جب بھارت نے پاکستان میں مبینہ حملے کیے تھے، تو پاکستان نے فوری جوابی کارروائی میں بھارتی مگ 21 طیارہ مار گرایا تھا اور اس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو زندہ گرفتار کیا تھا۔
اُس وقت پاکستان نے ابھینندن کو دنیا کے سامنے پیش کیا، بین الاقوامی میڈیا کو بریفنگ دی، اور پھر امن کی علامت کے طور پر بغیر کسی شرط کے بھارت کے حوالے کر دیا، جسے عالمی برادری نے سراہا۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بھارت کے پاس کسی پاکستانی پائلٹ کی گرفتاری کا ثبوت ہے تو وہ اسے عالمی برادری کے سامنے پیش کرے، جیسا کہ پاکستان نے 2019 میں کیا تھا۔ بصورت دیگر، ایسے دعوے اشتعال، افواہ اور جنگی جنون کے سوا کچھ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابھینندن ورتھامن برکھا دت پاک بھارت جنگ پاکستانی پائلٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابھینندن ورتھامن برکھا دت پاک بھارت جنگ پاکستانی پائلٹ پاکستانی پائلٹ برکھا دت کا کہنا
پڑھیں:
ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظامپنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع
اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔
موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیںنئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاریٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔
مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کارشہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن