بھارت نے ہم پر حملہ کر کے غلطی کی ہے، بھارت نے جو جارحیت کی ہے اس کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حملے میں ہمارے 26 شہری شہید ہوئے، ہم عہد کرتے ہیں کہ شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا ضرور حساب لیں گے۔ پہلگام واقعہ بے بنیاد ہے جس کی ہم نے تحقیقات کی پیش کش کی مگر بھارت نے اسے قبول نہیں کیا اور جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیراعظم کا قوم سے خطاب ایک قومی پالیسی کا عکس بھی ہے، جس میں واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خود مختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ خطاب میں شہداء کے خون کو نہ بھولنے کا عزم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اب کسی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کے الفاظ میں وہ شدت، جذبہ اور حوصلہ شامل تھا جس کی ایک بحران زدہ قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا، محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ایک قومی پالیسی کا اعلان ہے، جو پوری ریاست کی سوچ اور پالیسی کا عکاس ہے۔
پاکستان کی جانب سے بھارتی الزامات اور حملے کے بعد اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو متحرک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ عالمی برادری آخرکب تک بھارت کی ہٹ دھرمی اور جنگی جنون کو نظر انداز کرتی رہے گی؟ اگر بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہم نے مشرقی سرحد سے لے کر مغربی سرحد تک، ہر مقام پر دشمن کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ لڑی اور ہزاروں شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کو امن دیا۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل حالات میں اتحاد، ہمت اور قربانی کی مثال قائم کی ہے۔
چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو، 1999 کا کارگل معرکہ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری قوم نے ہمیشہ اپنے ملک اور افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا ہے۔ بھارت کی جانب سے حالیہ مہینوں میں جس تسلسل کے ساتھ جنگی ماحول پیدا کیا گیا، اس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں بھارت کی جارحانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔
پاکستان نے 25 بھارتی ڈرونز مارگرائے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت نہ صرف موجود ہے بلکہ پوری مہارت کے ساتھ متحرک بھی ہے۔ پاکستانی افواج کی طرف سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوری ردعمل نے دشمن کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ کوئی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیزی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی و عسکری پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف دشمن کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ کسی بھی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی قیادت، خصوصاً وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیاں اب کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ ان کی حکومت کا جھکاؤ انتہا پسند ہندو توا نظریے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس نے بھارت کو ایک سیکولر ریاست کے بجائے ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہے، اور اسی بنیاد پر اس نے عالمی برادری کو بارہا خبردارکیا ہے کہ جنوبی ایشیا کا امن اس رویے سے شدید خطرے میں ہے۔
پاکستان کی طرف سے بھارت کے جنگی جنون کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کی سعی، ایک سنجیدہ سفارتی کوشش کی غمازی کرتی ہے۔ اس میں پاکستان کا مقصد نہ صرف بھارتی پروپیگنڈا کا توڑ کرنا ہے بلکہ اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ بھارت کی جانب سے جو رویہ اپنایا جا رہا ہے، وہ محض پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔ کشمیرکی صورتحال، اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ہمسایہ ممالک کے خلاف مسلسل مداخلت، یہ سب بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشانیاں ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی ضرورت قومی یکجہتی ہے۔ دفاع وطن کے لیے جس اتحاد و یگانگت کی آج ضرورت ہے، شاید اس سے قبل کبھی نہ تھی۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی، مذہبی اور سماجی سطح پر تمام اختلافات کو پس پشت ڈال کر قوم ایک جھنڈے تلے متحد ہو جائے۔ دشمن کو یہی دکھانا ہے کہ پاکستانی قوم نہ صرف اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے بلکہ اپنی خودمختاری، آزادی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔
قوم اور افواج پاکستان کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ محض دفاعی اتحاد نہیں بلکہ ایک نظریاتی بندھن ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ بھارت نے اچانک اور بلا جواز حملہ کرکے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ جنوبی ایشیاء کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کی خود مختاری پرکھلی جارحیت تھی بلکہ یہ ایک ایٹمی صلاحیت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو ناپسندیدہ حد تک لے جانے کی ناپختہ کوشش بھی تھی۔
بھارت کی جانب سے اس طرح کا حملہ اس وقت کیا گیا جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود تھی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے بارہا پاکستان مخالف بیانات، جنگی جنون اور ہندو توا کے نظریات کی ترویج نے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت نے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ جارحیت کی، حالانکہ پاکستان نے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جسے بھارتی حکومت نے مسترد کردیا۔
پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اختیار کیا ہے، مگر جب بات خود مختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کی ہو، تو ہماری بہادر افواج کسی بھی قیمت پر دشمن کو منہ توڑ جواب دینے سے گریز نہیں کرتیں۔ یہ جوابی کارروائی محض ایک دفاعی قدم نہیں بلکہ دشمن کو یہ باور کروانے کا ذریعہ بھی تھی کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ہماری فضائیہ کے شاہینوں نے جس مہارت، چابکدستی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے بلکہ عالمی سطح پر ہماری دفاعی صلاحیتوں کی ایک واضح مثال بھی ہے۔
پاکستان کو اس حملے کے بعد مزید مضبوط حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ ایک طرف ہمیں اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، تو دوسری طرف سفارتی محاذ پر مؤثر طور پر اپنی بات دنیا کے سامنے رکھنی ہوگی۔ اسی کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کے منصوبے بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کسی قسم کی داخلی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی، بلکہ یہ ذہنوں اور سفارتی ایوانوں میں بھی جاری ہے۔ ہمیں ہر محاذ پر متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ یہ وقت سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ثابت کریں کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں، جو شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتی۔یہ پیغام صرف دشمن کے لیے نہیں، بلکہ دوستوں کے لیے بھی ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ اگر امن چاہیے، تو انصاف ضروری ہے اور اگر انصاف نہیں ہو گا تو جنوبی ایشیا میں کبھی بھی مستقل امن قائم نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کا یہ موقف اصولی ہے، واضح ہے اور تاریخ کے تناظر میں بالکل درست ہے۔ ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینی ہے، چاہے وہ میدان جنگ ہو، سفارتی دنیا ہو یا میڈیا کی جنگ۔عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ بھارت کو اس کے جنگی جنون سے روکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو جوہری ممالک کے درمیان جنگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی۔
اگر عالمی طاقتیں واقعی امن کی خواہاں ہیں، تو انھیں فوری طور پر پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ مگر یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کسی کی مہربانی کا محتاج نہیں۔ اگر ہمیں اپنے دفاع کے لیے تنہا بھی کھڑا ہونا پڑے تو ہم کھڑے ہوں گے، جیسا کہ ماضی میں بارہا کیا ہے۔ ہمیں نہ صرف دشمن کے حملوں کا جواب دینا ہے، بلکہ دنیا کو یہ بھی باور کروانا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، مگر عزت کے ساتھ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہے کہ پاکستان عالمی برادری پاکستان کی کی جانب سے جنگی جنون نہیں بلکہ بھارت کی بھارت نے کرنے کی کے ساتھ ہے بلکہ دشمن کو کے خلاف کی طرف کیا ہے بھی ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔