پنجاب میں فرضی مشقیں جاری، کومبنگ آپریشنز میں درجنوں مشتبہ افراد زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
لاہور:
موجودہ سرحدی صورت حال کے پیش نظر لاہور سمیت صوبہ بھر میں فرضی مشقیں اور کومبنگ آپریشنز جاری ہیں۔
آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فرضی مشقیں کی جا رہی ہیں جس میں پنجاب پولیس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ریسکیو 1122، بم ڈسپوزل سکواڈ و قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرضی مشقوں کا مقصد کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنا، خطرات سے بچاؤ، شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کرنا، رسپانس ٹائم مزید بہتر بنانا ہے، موجودہ سرحدی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی، لا اینڈ آرڈر، امدادی سرگرمیاں یقینی بنانے کے لئے فرضی مشقیں جاری رہیں گی۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 380 کومبنگ آپریشنز میں 14 ہزار مشتبہ افراد کی چیکنگ کی گئی، 61 مشکوک افراد حراست میں لئے گئے۔
ترجمان کے مطابق 32 سرچ اینڈ سویپ آپریشنز، 3483 افراد سے پوچھ گچھ، 04 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، سنگین جرائم میں ملوث 167 اشتہاری، 155 عدالتی مفرور، 53 عادی مجرمان بھی گرفتار کرلیے گئے۔
جرائم پیشہ و مشتبہ افراد کے قبضہ سے بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئیں، جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کے دوران 05 مجرمان کیفر کردار کو پہنچ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشتبہ افراد
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت