بھارت کو بڑا دھچکا، سیکیورٹی صورتحال کے سبب آئی پی ایل معطل
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے پیش نظر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 کو معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب آئی پی ایل نے جمعرات کے روز دھرم شالہ میں پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹلز کے درمیان جاری میچ کو پہلی اننگز کے دوران ہی منسوخ کردیا۔ دھرم شالہ اور قریبی علاقوں کے ہوائی اڈے بند ہونے کے باعث، دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور معاون عملے کو جمعے کی صبح ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے دہلی منتقل کیا گیا، جس کا انتظام آئی پی ایل انتظامیہ نے کیا تھا۔
آئی پی ایل 2025 اب تک 58 میچز مکمل کرچکا ہے، جن میں دھرم شالہ کا منسوخ شدہ میچ بھی شامل ہے۔ گروپ مرحلے کے 12 میچ باقی تھے، جنہیں لکھنؤ، دہلی، چنئی، بنگلورو میں 2، حیدرآباد اور احمد آباد میں 3، دہلی، چنئی، بنگلورو (2)، ممبئی اور جے پور میں منعقد ہونا تھا، جب کہ پلے آف مرحلے کے میچز حیدرآباد اور کولکتہ میں شیڈول تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی ایل
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔