آئی پی ایل: میچ منسوخی پر کھلبلی مچ گئی، کھلاڑی ایک دوسرے کی بسوں میں سوار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میچ منسوخ ہونے کے بعد کھلبلی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دھرم شالہ میں میچ منسوخ ہونے کے بعد ایک دم کھلبلی مچ گئی۔
آئی پی ایل کھلاڑیوں کو فوراً بس میں جانے کی ہدایت کی گئی۔
ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے کی بسوں میں سوار ہوگئے۔
واضح رہے کہ آئی پی ایل میں پنجاب کنگز اور دہلی کیپیٹل کے درمیان جاری میچ کی پہلی اننگز کے گیارہویں اوور کے بعد میچ ختم کردیا گیا۔
میچ کے ختم ہونے کی وجہ برقی روشنیوں کی خرابی قرار دیا گیا تاہم بعد میں چیئرلیڈر کی ویڈیو نے بھارتیوں کا جھوٹ بے نقاب کردیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔