بھارت کو حملے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، پاکستان خاموش نہیں رہے گا، امریکی ٹی وی پر پاکستانی سفیر کا دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے واضح کیا ہے کہ بھارت اگر یہ سوچتا ہے کہ وہ حملہ کرے گا اور پاکستان خاموش رہے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول ہے امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کے خلاف جارحیت انتہائی قابل مذمت ہے اور دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایسی خطرناک مثال قائم کرنا چاہتی ہے جس میں کسی خودمختار ملک کے خلاف بغیر ثبوت کے کھلی جارحیت کی اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین راتوں سے بھارت مسلسل اشتعال انگیزی اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کیا انہوں نے بغیر ثبوت الزام تراشی کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے کیونکہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا مگر دشمن کی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب ضرور دیا جائے گا رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت پہلے ہی تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور پاکستان آج بھی جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان نے جو بھی اقدامات کیے ہیں وہ صرف دفاع کے تحت تھے اور اگر ضرورت پڑی تو جوابی کارروائی بھی کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ہمارے معصوم شہریوں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس جارحیت کا جواز پیش کرنے کے لیے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کرکٹ اسٹیڈیم کو نشانہ بنانے کا کیا جواز ہے وہاں کون سا دہشت گردی کا مرکز تھا سفیر پاکستان نے بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تسلط پسندانہ سوچ رکھنے والی بھارتی حکومت کی جانب سے دنیا کو امن پر لیکچر دینا خود ایک مذاق بن چکا ہے بھارت کا رویہ خطے میں مسلسل کشیدگی کا باعث بن رہا ہے اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان نے کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔