پاکستانی سکھ برادری کی بھارتی جارحیت کیخلاف احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پاکستانی سکھ برادری کی بھارتی جارحیت کیخلاف احتجاجی ریلی WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
ننکانہ صاحب(سب نیوز)پاکستانی سکھ برادری کی طرف سے بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی،پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی۔
تفصیلات کے مطابق ریلی صدر سکھ ان پاکستان سیوا سوساٹی سردار سرجیت کنول کی قیادت میں گوردوارہ جنم استھان میں بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ریلی میں ہندو اور مسیحی رہنماوں نے بھی شرکت کی، ریلی کے دوران سکھ برادری نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کی معاشی بحالی ایک حقیقت بن چکی، ملک خود کو مکمل تبدیل کر رہا ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پاکستان کی معاشی بحالی ایک حقیقت بن چکی، ملک خود کو مکمل تبدیل کر رہا ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھارت ہمیشہ دہشتگردی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر مراکش میں پاکستانی سفیر کا بھارت کو سخت جواب دینے کا انتباہ، صحارا کے موقف پر نظرثانی کا اشارہ پاکستانی ہیکرز کا کارنامہ، آپریشن سالار کا آغاز، کئی بھارتی ویب سائٹس ہیک، قومی پرچم آویزاں محبوبہ مفتی نے پاک بھارت رہنماوں سے حملے بند کرنے کی اپیل کردی سپریم کورٹ نے اسلم رئیسانی کے خلاف انتخابی عذرداری خارج کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی جارحیت احتجاجی ریلی سکھ برادری
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔