تھیلیسیمیا کے عالمی دن پر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
سٹی 42 : پنجاب تھیلیسیمیا و دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ (PTGD)کے تعاون سے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں تھیلیسیمیا کے عالمی دن پر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایجوکیشنل ایڈوائزر شاکر علی بطور اسپیشل گیسٹ، اور سابق سربراہ شعبہ بچگان پروفیسر جویریہ منان بطور گیسٹ آف آنر شریک ہوئے ۔
مری میں ’’پاک فوج زندہ باد ‘‘ ریلی
اس موقع پر سابق پرنسپل پروفیسر نورین اکمل ، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن / ڈائیریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل/ ڈین انڈر گریجویٹس پروفیسر بلقیس شبیر،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز پروفیسر شبنم بشیر،ایڈیشنل ڈائریکٹر (PTGD) ڈاکٹر یاسمین احسان، ڈینز، فیکلٹی ممبران ، انڈر گریجوئیٹ طالبات اور تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچ گئے
آج کے سیمینار کا موضوع تھا " تھیلیسیمیا کے لیے کمیونٹیز کو ایک ساتھ متحد کرنا اور مریضوں کو ترجیح دینا۔" سیمینار کا بنیادی مقصد تھیلیسیمیا سمیت دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور خاتمے کے حوالہ سے آگاہی دینا تھا۔
استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے معزز مہمانوں کا سیمینار میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور اور ڈاکٹر یاسمین احسان کو اس شاندار سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تھیلیسیمیا پروجیکٹ میں موثر کردار ادا کرنے پر حکومتِ پنجاب کا شکر یہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پنچائے،تھیلیسیمیا پریونشن سنٹر دنیا کا سب سے بڑا پروجیکٹ ہے جو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ ہے، احتیاط علاج سے بہتر ہےاور اس کی بہترین مثال آج کا دن ہے۔ اس بیماری میں آگاہی، احتیاطی تدابیر اور مشورہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آج کے دن کا پیغام " احتیاطی تدابیر اور بر وقت تشخیص" ہے ۔ تھیلیسیمیا سے بچاؤ کا آسان اور مؤثر طریقہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی ممالک نے اس بیماری پر قابو پایا ہے وہ احتیاطی تدابیر کے ذریعے پایا ہے۔
ڈی جی سوشل ویلفیئر کی عمارت کی تاریخی حیثیت محفوظ , فیض احمد فیض گیلری بنانے کافیصلہ
پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں ملکی سطح پر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔ آج ہم اطمینان و سکون کے ساتھ بیٹھے ہیں، اس کا کریڈٹ ہماری سیکیورٹی فورسز کو جاتا ہے۔ ہم دامے دِرمے قَدَمے سُخَنے ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری پوری تیاری کے ساتھ 24/7 تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک ایک ڈاکٹر حب الوطنی کا بھرپور کا جذبہ رکھتا ہے، اگر ضرورت پڑی تو ہمارے ڈاکٹرز افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ بارڈر پر جائیں گے اور اپنے لوگوں کی خدمت کرینگے۔ ہمیں اپنی سیکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔ ہماری دعائیں ہماری فوج کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر شرکاء نے پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ماحول کو گرما دیا۔
ہماری پاک فوج دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے; گورنر پنجاب
ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ٹی جی ڈی ڈاکٹر یاسمین احسان نے پنجاب تھلیسیمیا پریوینشن پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تھلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کے لیے حکومت پنجاب نے 2009-2010 میں پنجاب تھلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص, روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایاگیا۔ یہ ادارہ پنجاب بھر کے 36 اضلاع میں تھیلیسیمیا اور دیگر جینیاتی بیماریوں سے بچاؤ اور خاتمہ کی مکمل سہولیات مفت فراہم کر رہا ہے ۔ پنجاب کی 09 ریجنل لیبارٹریز، تھیلیسیمیا بلڈ ٹیسٹنگ، جینیاتی مشاورت، تشخیص قبل از پیدائش، شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹنگ ، ڈی این اے لیب اور کوریونک ویلس سیمپلنگ جیسی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل سمیت معزز مہمانوں اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
لیسکو کے الیکٹریسٹی نیو کنکشن سسٹم میں خرابی دور؛ ڈیمانڈ نوٹسز کا اجرا شروع
پروفیسر ڈاکٹر شبنم بشیر کا کہنا تھا کہ تھیلیسیمیا کے بچے کو زندگی بھر خون کے عطیات کے ضرورت پڑتی ہے ۔ تھیلیسیمیا کی سب سے بڑی وجہ آگاہی کا نہ ہونا ہے۔جب دو تھیلیسیمیا مائنر کے مریضوں (کیریئرز) کی شادی کے نتیجے میں تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں کی پیدائش کا خدشہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے پنجاب تھلیسیمیا و دیگر جینیاتی بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی خدمات کو سراہاجو کہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا پریونشن سنٹر کے طور پر کام کر رہا ہے اور بہترین طریقے سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
پروفیسر جویریہ منان کا کہنا تھا کہ مجھے تھیلیسیمیا پروجیکٹ کی بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس بیماری سے نہ صرف مریض بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہےاور ذہنی بوجھ کے ساتھ ساتھ اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسپیشل گیسٹ شاکر علی نے تھیلیسیمیا کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ہر فرد کے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے مؤثر علاج کے لیے آگاہی اور اجتماعی اقدام بہت ضروری ہیں۔
اس موقع پر تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں نے ٹیبلو پیش کیا۔پروفیسر بلقیس شبیر نے شکریہ کے کلمات ادا کیے ۔ سیمینار کے اختتام پر اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی خالد مسعود گوندل احتیاطی تدابیر پروفیسر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ سیمینار کا انہوں نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک