پاکستان نے ایمان، عزم اور حوصلے کیساتھ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا؛ مفتی اعظم عمان
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
عمان کے مفتی اعظم اور ممتاز عالم دین احمد بن حمد الخلیلی نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
عمان کے مفتی اعظم نے بھارت کے حملوں میں ایک مسجد کو نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مفتیٔ اعظم نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا ایمان، عزم اور حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرنے پر برادر اسلامی ملک کو سلامِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایمان، عزم اور حوصلے کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا اور اللہ کا شکر ہے کامیاب بھی ہوا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے گھروں، وہاں عبادت کرنے والوں، اور تمام بے گناہ لوگوں پر ہر طرح کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
مفتی اعظم نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ثابت قدمی عطا فرمائے اور ظالموں کو مغلوب کرے۔
عمان کے مفتی اعظم نے پوری امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھیں اور ہر طرح کی دشمنی کا مل کر سامنا کرے۔
مفتی اعظم نے اس کامل یقین کا بھی اظہار کیا کہ اللہ ہمارا مددگار اور ہمیں کامیابی دینے والا ہے۔
عمان کے مفتی اعظم احمد بن حمد الخلیلی نے سورہ روم کی آیت 47 کا حصہ بھی بیان کیا جس کا ترجمہ ہے کہ اور مؤمنوں کی مدد ہم پر لازم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عمان کے مفتی اعظم مفتی اعظم نے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔