بھارت نے اپنے ہی علاقوں پر 6 بیلسٹک میزائل فائر کر دیے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت نے چند لمحے قبل 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے ایک آدم پور اور 5 میزائل امرتسر کے مختلف علاقوں میں گرائے گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہنگامی پریس کانفرس میں بتایا کہ بھارت اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور ان حملوں کا خاص ہدف سکھ برادری ہے۔ بھارت مذموم سازشوں کے ذریعے سکھوں کی آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ اقدام بھارتی ریاستی پالیسی کی سنگین ناکامی اور اندرونی خلفشار کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: 2 سال کے بچے کو شہید کرکے بھارتی میڈیا جشن منارہا ہے، یہ شرمناک ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان صورتِحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حوالے سے الیکٹرونکس سیگنیچر بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ہمدردی سکھ برادری کے ساتھ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آدم پور امرتسر پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا دم پور پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری ڈی جی آئی ایس پی آر
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔