بھارت کا پاکستان کی تین ایئر بیسز پر حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہناتھا کہ بھارت کو اپنی ننگی جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے اس نے کچھ دیر قبل اپنے طیاروں سے فضاء سے زمین پر میزائل داغے ہیں، نور خان بیس ، مرید بیس اور شور کوٹ بیس کو نشانہ بنایا گیاہے ، اب تک کی اطلاعا ت کے مطابق الحمدواللہ ایئر فورس کے تمام اثاثے محفوظ ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں میزائل داغے ہیں اور ڈرونز کا حملہ کیاہے ، بھارت پاگل پن اور مکاری کے ذریعے پورے خطے کو خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہاہے ، نہ ہم تمہاری طاقت اور نہ مکاری سے مرعوب ہونے والی قوم ہیں ،ہمارے جواب کا انتظار کرو۔
نور خان ایئر بیس چکلالہ کے قریب حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔