بھارت مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا،چوہدری شجاعت
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار)پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون اور اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، بھارتی جنون کا منہ توڑ جواب دینا ضروری ہوگیا ہے ، مساجد،بچوں اور عورتوں کی شہادت غیر معمولی واقعہ نہیں بدلے تک قوم سکون سے سو نہیں سکے گیاان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں سنیر نائب صدر چوہدری سالک حسین، ممبر قومی اسمبلی مسز فرخ خان،چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد،_سیکرٹری جنرل طارق حسن،مرکزی سیکرٹری اطلاعات مصطفی ملک ، صدر مسلم لیگ پنجاب ملک ثمین۔خان، مرکزی راہنما ملک کامران منیر شریک تھے، چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ جنگیں صرف گولی ، بارود سے نہیں جزبہ ایمانی اور بہادری سے لڑی جاتی ہیں جن میں پاکستان کا کوئی ثانی نہیں، چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں جو بزدلانہ کا حملہ کیا ہے اس کو ہماری افواج نے بڑی دلیری سے نہ صرف پسپا کیا بلکہ دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا یہ سب سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ممکن ہواچوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ دنیا میں جنگیں رہتی ہیں مگر کبھی نہیں ہوا کہ مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہو ، مساجد اور مدارس پر پر حملوں میں بے گناہوں پر پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کا مسلمان دکھی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری افواج، جوان اور عوام بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چوہدری شجاعت حسین نے کہا
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک