Nawaiwaqt:
2026-06-03@06:30:34 GMT

بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف اولین ترجیح: وزیراعظم

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف اولین ترجیح: وزیراعظم

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے  گزشتہ روز جاری بیان کے مطابق وفاقی بجٹ 26۔2025  کی تیاری کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہے۔ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی بجٹ کی تیاری میں برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لئے منصوبوں پر کام کیا جائے۔ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔ وفاقی بجٹ تیار کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاؤسنگ کے شعبوں پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ ان تمام شعبوں میں بے حد استعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا فروغ  آئندہ  بجٹ میں حکومتی ترجیح ہو گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے مثبت نتائج آرہے ہیں۔ صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی  صنعت و پیداوار کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ حکومتی نظام کو شفاف بنانے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے حوالے سے رائٹ سائزنگ کا عمل آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ تیاری کے حوالے سے نجی شعبے سے مشاورت کا عمل گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے۔  بجٹ کی تیاری کے حوالے سے معیشت کے مختلف شعبوں سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی سیشنز کئے گئے ہیں۔ 30۔2025  تک کا پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ای کامرس 2.

0 فریم ورک بھی تکمیل کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ ٹیرف ریشنلائزیشن کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔  کاروباری شخصیات اور ماہرین کے وفد نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اپنی تجاویز دیں۔ وزیراعظم نے  نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور ان کی قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسروں نے شرکت کی۔ دنیا بھر کی مسیحی برادری کو پوپ لیو  چہاردہم کے انتخاب پر مبارکباد دی ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں  کہا کہ یہ تاریخی لمحہ دنیا بھر کی کروڑوں افراد کے لئے امید اور توقعات کا نیا باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسیحی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں فروغ دینے کا عزم کرتا ہے۔ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور امن اور انسانی وقار کے پرامن فروغ کے مشترکہ مقاصد کے لئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رکن قومی اسمبلی محمد خان ڈاہا سے ان کے والد سابق صوبائی وزیر، رکن پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنما حاجی عرفان احمد خان ڈاہا کی رحلت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔  وزیراعظم نے محمد خان ڈاہا کو فون کیا اور ان کے  مرحوم والد کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے مرحوم کیلئے  مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے  لئے  صبر و استقامت کی دعا کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حاجی عرفان احمد خان نے بطور سیاسی کارکن عوامی فلاح کے لئے  قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔ میری تمام تر ہمدردیاں مرحوم کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم  نے مالی سال 2025 کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 31 فیصد اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی 2024ء تا اپریل 2025ء ترسیلات زر 31.2 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔  وزیر اعظم نے کہا کہ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ملکی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت  معیشت کی ترقی کے لیے پر عزم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعظم نے کہا کہ کے حوالے سے وفاقی بجٹ کرتے ہوئے کے لئے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف