بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف اولین ترجیح: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات میں کمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے گزشتہ روز جاری بیان کے مطابق وفاقی بجٹ 26۔2025 کی تیاری کے حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہے۔ آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی بجٹ کی تیاری میں برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لئے منصوبوں پر کام کیا جائے۔ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔ وفاقی بجٹ تیار کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور ہاؤسنگ کے شعبوں پر بھرپور توجہ دی جائے کیونکہ ان تمام شعبوں میں بے حد استعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا فروغ آئندہ بجٹ میں حکومتی ترجیح ہو گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر میں حکومتی اصلاحات کے مثبت نتائج آرہے ہیں۔ صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی صنعت و پیداوار کے فروغ کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔ حکومتی نظام کو شفاف بنانے، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے حجم کو کم کرنے کے حوالے سے رائٹ سائزنگ کا عمل آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ تیاری کے حوالے سے نجی شعبے سے مشاورت کا عمل گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے۔ بجٹ کی تیاری کے حوالے سے معیشت کے مختلف شعبوں سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی سیشنز کئے گئے ہیں۔ 30۔2025 تک کا پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ای کامرس 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعظم نے کہا کہ کے حوالے سے وفاقی بجٹ کرتے ہوئے کے لئے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار