وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کا ٹیلی فونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے بھارتی حملے اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے تناظر میں جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے آج کی کارروائی بھی دفاع میں کی، بھارت نے پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں چھوڑی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان کی جانب بھارت کے خلاف جوابی کارروائی جاری ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارتی حملوں میں ہمارے 35 افراد شہید ہوئے جبکہ بھارت کے 80 ڈرونز گرائے جا چکے ہیں، بھارت کے مزموم عزائم جاری تھے۔ نور خان، شور کوٹ، سکھر ایئرپورٹ پر حملے ہوئے، پاکستان جوابی کارروائی اپنے دفاع میں کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت جارحیت سے باز نہیں آ رہا، آج ہم نے ’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘ آپریشن شروع کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :