راولپنڈی:

علیمہ خان کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرلی۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو 26 نومبر احتجاج کے کیس میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

جج امجد علی شاہ کے روبرو کیس کی سماعت میں علیمہ خان نے خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کیا۔ دورانِ سماعت عدالت نے علیمہ خان کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ منسوخ کردیا۔

عدالت نے ایس ایچ او صادق آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  21 مئی کو ریکارڈ طلب کرلیا اور علیمہ خان کو بھی شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے علیمہ خان کو ایک لاکھ روپے مالیت کا ضمانتی مچلکہ جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

دریں اثنا علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی درخواست دائر کر دی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہنگامی جنگی حالات ہیں، جیل میں بھائی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علیمہ خان کو عدالت نے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن