علیمہ خان پھر عدالت میں پیش نہ ہوئیں، آٹھویں مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: 22 نومبر احتجاج کیس کے سلسلے میں ایک بار پھر تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان عدالت میں پیش نہ ہوئیں جس پر انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ان کے آٹھویں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے نئے وارنٹ گرفتاری علیمہ خان کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے جاری کیے ہیں، جو اس سے قبل 7 مرتبہ بار جاری ہونے والے وارنٹس کے باوجود بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ مقدمہ تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں درج ہے، جہاں 22 نومبر کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، جنہوں نے عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت بارہا موقع فراہم کر چکی ہے مگر ملزمہ پیش نہیں ہو رہیں۔
سماعت کے دوران پانچ گواہان سمیت دیگر شریک ملزمان عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلم بند کرائے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے نمائندے بھی عدالت میں موجود تھے جنہوں نے علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے سے متعلق تحریری رپورٹ پیش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت میں پیش علیمہ خان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔