عمران خان کی زندگی کو اڈیالہ جیل میں شدید خطرہ ہے ، علی امین گنڈاپورکا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ کے پی نے بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کیلئے درخواست دائر کر دی
مودی سینٹرل جیل اڈیالہ کو بھی ڈرون حملے کیلئے اہم ٹارگٹ بنا سکتا ہے ،موقف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی زندگی کو اڈیالہ میں شدید خطرہ ہے ، ان کی رہائی کیلئے درخواست دائر کی ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی امت مسلمہ کے لیڈر ہیں اور امید ہے ہمیں انصاف ملے گا۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں سے ہمیشہ درخواست کی ہے جو لوگ عدالتوں کا حکم نہیں مانتے ان کے خلاف ایکشن لیں، ملک میں کوئی قانون تو ہے ہی نہیں، ہم نے انصاف کیلئے جو دروازے ہیں وہ کھٹکھٹانے ہیں۔علی امین گنڈپورنے کہا کہ قومی سلامتی اجلاس میں شرکت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی ممکن ہے ، عمران خان ہمارے لیڈر ہیں ان سے ہدایت لینے کیلئے ہی اڈیالہ میں ملاقات کرنی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ مودی کے مظالم پر بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور مودی کو بھی پتہ ہے عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، مودی جیسے شخص سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے ۔بعدازاں، وزیر اعلیٰ کے پی نے بانی پی ٹی آئی کی پیرول پر رہائی کیلئے درخواست دائر کر دی۔ علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کیلئے بائیو میٹرک تصدیق کروائی۔علی امین گنڈا پور نے لطیف کھوسہ اور شہباز کھوسہ کے ذریعے درخواست دائر کی۔ درخواست میں بانی پی ٹی آئی کی پے رول پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے ۔درخواست کے مطابق پاکستان کو بھارتی حکومت کی جانب سے جارحیت کا سامنا ہے اور مختلف شہروں پر ڈرون حملوں سے بانی پی ٹی آئی کی جان کو جیل میں خطرہ ہے ، مودی سینٹرل جیل اڈیالہ کو بھی ڈرون حملے کیلئے اہم ٹارگٹ کے طور پر دیکھ سکتا ہے ، بنی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تو مودی کو عالمی سطح پر شرمندگی اٹھانا پڑی تھی۔علی امین نے درخواست پر موقف اپنایا کہ سیاسی طور پر بنائے گئے مقدمات میں طویل قید سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، اس طرح کی قید سے بچنے کیلئے آئین میں پے رول پر رہائی کی ریمیڈی موجود ہے ، بانی پی ٹی آئی یقین دہانی کراتے ہیں کہ پے رول پر رہائی کی شرائط پر عمل کریں گے ۔ درخواست گزار کے مطابق طویل قید سے صحت خراب ہونے کا بھی خطرہ موجود ہے ، سیکریٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو اس متعلق درخواست دی مگر کئی کارروائی نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی نے جیل میں قید کے دوران پرزن رولز کی خلاف ورزی نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی درخواست دائر پر رہائی کی علی امین جیل میں
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔